6.27.2021

بچے کے کان میں کتنے دن بعد اذان و اقامت کہنا چاہیئے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علمائے کرام مفتیانِ عظام کی بارگاہ میں مؤدبانہ گزارش ہے سوال۔۔ بچّوں کی پیدائش کے کتنے دن بعد کان میں اذان اور اقامت پڑھنا چاہیئے براۓ مہربانی رہنمائی فرمائیں آپ کا خادم۔ أکبر علی رضوی

       جواب

حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں جب بچہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے

رسالہ مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد فتاویٰ رضویہ جدید جلد ۲۴ ص۴۵۲ اور بہار شریعت حصہ پانزدہم
میں حضور صدرالشریعہ تحریر فرماتے ہیں جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے انشاء ﷲ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے لہذا اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے فورا بعد بچوں کےکان میں اذان دی جائے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عسجد رضا نظامی پورنوی عفی عنہ

نعمت پور بائسی پورنیہ بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only