6.27.2021

موجودہ امام کعبہ کافر ہے یا نہیں؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا موجودہ وقت کا امام کعبہ کافر ہے ؟ کوئی شکس موجودہ وقت کے امام کعبہ کو کافر کہے تو اس پر کیا حکم شرع ہوگا ؟ اور اگر کوئی ابن تیمیہ کو کافر کہے تو کہنے والے پر کیا حکم شرع ہوگا؟ نام - ﷴ تنویر قادری ربّانی پتا- کولکاتا، ویسٹ بنگال پین - 700119

       جواب

جی ہاں امام کعبہ کافر ہی ہے اور ابن تیمیہ بھی کافر ہے جو نبی کریم کی شان میں گستاخی کریں انھیں کافر ہی کہا جائے کیونکہ جو سرکار کو نہ مانے اور انھیں اپنے جیسا بشر کہے اور انھیں یہ کہے کہ مر کر مٹی میں مل گئے اس سے بڑا احمق کون ہوگا چاہے امام کعبہ ہو یاکہ مسجد نبوی کا امام دونوں کا عقیدہ و نظریات دنیا کی نظروں سے مخفی (پوشیدہ) نہیں بلکہ عیاں ہے اس لیے تمام بدمذہب کے پیچھے نماز پڑھنا حرام اور انہیں امام بنانا بھی حرام ہے اور اگر کوئی معاذاللہ اگر کوئی انکے عقائد باطلہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان سمجھے تو وہ خود ہی کافر ہے اس لئے بدمذہب کے پیچھے نماز پڑھنا تو دور کی بات ہے اگر کوئی سنی مسلمان بدمذہبوں سے میل جول رکھتا ہو اس کے پیچھے بھی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جس کا لوٹانا واجب ہے ۔ایسا ہی

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 03 صفحہ نمبر 269
نوٹ امام کعبہ اور امام تیمیہ کو کافر کہنے میں کوئی حرج نہیں کہسکتے ہیں کیونکہ وہ سرکار کو اپنا جیسا سمجھتے ہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی

خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

  1. امام حرمین شریفین کے مسلمان ہونے اور انکے پیچھے نماز درست ہونے میں کوئی شک نہیں ہے
    لیکن فتویٰ لکھنے والا بدعتی اور مشرک ہے اس کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only