6.24.2021

دوسری منزل پر نماز پڑھانا کیسا ہے؟؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں اس لاک ڈاؤن میں پولس پرشاسن کی جانب سے مسجد میں صرف پانچ لوگوں کو نماز باجماعت پڑھنے کی اجازت ہے مگر پانچ سے زائد افراد زبردستی مسجد میں داخل ہوجاتے ہیں منع کرنے پر بھی نہیں مانتے ہیں پولس کاخطرہ رہتا ہے اور پکڑے جانے پر امام اور متولی پر مقدمہ درج کیا جاتا ہےکیا ایسی صورت میں مسجد کا نیچے کا حصہ چھوڑ کر اگر اوپر کی منزل پر نماز باجماعت ادا کر لی جائے تو نماز میں کوئی کراہت تو نہیں ہے قرآن وحدیث وائمہ کرام کے اقوال کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی محمد ہاشم رضا نوری امام مسجد چوپلہ نواب گنج بریلی شریف

       جواب

پہلی بات تو آپ یہ ذہن نشیں کر لیں کہ دور حاضر میں ہو یا پھر کسی اور وقت میں ہو مسجد میں نیچے جگہ ہوتے ہوئے پہلی یا دوسری منزل پر نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے جیساکہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول پر ہے کہ جب مسجد دو منزلہ یا تین منزلہ ہو تو امام کو نیچے ہی نماز پڑھانی چاہئیے نیچے جگہ رہتے ہوئے اور دوسری تیسری منزل پر نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے اس لئے کہ بلا ضرورت مسجد میں چڑھنا جائز نہیں ہاں اگر نیچے جگہ نہ ہو تو اوپر نماز پڑھی جائے

ردالمحتار جلد اول صفحہ نمبر 656 پر ہے کہ
ثم رایت القھستانی نقل عن المفید کراھتہ السعود علی سطح المسجد اھ ویلزمہ کراھتہ الصلوٰۃ فوقہ اھ

اور فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم صفحہ نمبر 322 میں ہے کہ
الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ای اذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطح للضرورۃ اھ

(بحوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر 195)
یہ عذر کہ لوگ مانتے نہیں بلا وجہ ہے بہتر ہے کہ انھیں سمجھا یا جائے اور نرمی سے روکا جائے کہ اپنے اپنے گھروں میں نمازیں ادا کریں فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی

خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only