6.24.2021

عورتوں کا آپس میں معانقہ کرنا کیسا ہے؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورتوں کا آپس میں معانقہ کرنا کیسا ہے؟ مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی آپ کی جزاکم اللہ خیرا المستفتی محمد تبریز عالم دہلوی الھنـــد

       جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوہاب: جس طرح ایک مرد دوسرے مرد سے مصافحہ ومعانقہ کرسکتا ہے، اسی طرح ایک عورت دوسری عورت سے مصافحہ ومعانقہ کرسکتی ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: "عن البراء رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما من مسلمین یلتقیان فیتصافحان إلا غفر لہما قبل أن یفترقا" ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: جب دو مسلمان مل کر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ (سنن أبي داؤد، رقم : ۲۷۳۰) الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أطلق الفقہاء القول بسنیۃ المصافحۃ ، ولم یقصروا ذلک علی ما یقع منہا بین الرجال، إنما استثنوا مصافحۃ الرجل للمرأۃ الأجنبیۃ، فقالوا بتحریمہا ، ولم یستثنوا مصافحۃ المرأۃ للمرأۃ من السنیۃ، فیشملہا ہذا الحکم ، وقد صرح بذلک الشربینی الخطیب، فقال : وتسن مصافحۃ الرجلین والمرأتین، (الموسوعۃ الفقیہ صفحہ ۳۵۷) مذکورہ بالا حوالوں سے معلوم ہوا کہ عورتیں باہم معانقہ کرسکتی ہیں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ حدیث میں مردوں اور عورتوں کی کوئی تفریق نہیں ہے۔

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی ارشدی عفی عنہ

۱۵/ شوال المکرم ۱۴۴۲ ہجری مطابق ۲۸/ مئی ۲۰۲۱ عیسوی بروز جمعہ مبارکہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only