چوڑیدار پائجامہ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Gumbade Raza

سوال

یہاں پر سوال لکھیں مع نام سایل یعنی اس خالی جگہ میں


     جواب

چوڑی دار پاجامہ مرد عورت دونوں کے لیے منع ہے بلکہ عورت کے لئے بدرجہ اولی منع ہے کیونکہ اس میں جسم کی ہیت ظاہر ہوتی ہے اس کپڑے سے پڑھی گی نماز ہوجائے گی   جیسا صاحب ردالمحتار علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں   (قَوْلُهُ لَا يَصِفُ مَا تَحْتَهُ) بِأَنْ لَا يُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ احْتِرَازًا عَنْ الرَّقِيقِ وَنَحْوِ الزُّجَاجِ (قَوْلُهُ وَلَا يَضُرُّ الْتِصَاقُهُ) أَيْ بِالْأَلْيَةِ مَثَلًا، وَقَوْلُهُ وَتَشَكُّلُهُ مِنْ عَطْفِ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ. وَعِبَارَةُ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: أَمَّا لَوْ كَانَ غَلِيظًا لَا يُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ إلَّا أَنَّهُ الْتَصَقَ بِالْعُضْوِ وَتَشَكَّلَ بِشَكْلِهِ فَصَارَ شَكْلُ الْعُضْوِ مَرْئِيًّا فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَمْنَعَ جَوَازَ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ السَّتْرِ. اهـ.

ردالمحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد ج ١ ص ٤١٠ دار الفکر بیروت
  حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں   دبیز کپڑا، جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہیأت معلوم ہوتی ہے، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں ۔، اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے لیے بدرجۂ اَولیٰ ممانعت۔ بعض عورتیں جو بہت چست پاجامے پہنتی ہیں

بہار شریعت جلد سوم حصہ شانزدہم صفحہ ٤١٦ ۔ مکتبۃ المدینہ
  اورمجدد اعظم اعلحضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں   تنگ پائچے بھی نہ چوڑی دار ہوں نہ ٹخنوں سے نیچے،نہ خوب چست بدن سے سلے۔کہ یہ سب وضع فساق ہے۔اور ستر عورت کا ایسا چست ہونا کہ عضو کا پورا انداز بتائے۔یہ بھی ایك طرح کی بے ستری ہے۔حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی کہ نساء کا سیات عاریات ہوں گی کپڑے پہننے ننگیاں،اس کی وجوہ تفسیر سے ایك وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ایسے تنگ چست ہوں گے کہ بدن کی گولائی فربہی انداز اوپر سے بتائیں گے جیسے بعض لکھنؤ والیوں کی تنگ شلواریں چست کرتیاں۔   جیسا کہ صاحب ردالمحتار علامہ ابن عابدین شامی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں   فِي الذَّخِيرَةِ وَغَيْرِهَا وَإِنْ كَانَ عَلَى الْمَرْأَةِ ثِيَابٌ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَتَأَمَّلَ جَسَدَهَا وَهَذَا إذَا لَمْ تَكُنْ ثِيَابُهَا مُلْتَزِقَةً بِهَا بِحَيْثُ تَصِفُ مَا تَحْتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ رَقِيقًا بِحَيْثُ يَصِفُ مَا تَحْتَهُ، فَإِنْ كَانَتْ بِخِلَافِ ذَلِكَ فَيَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَغُضَّ بَصَرَهُ اهـ. وَفِي التَّبْيِينِ قَالُوا: وَلَا بَأْسَ بِالتَّأَمُّلِ فِي جَسَدِهَا وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ مَا لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ يُبَيِّنُ حَجْمَهَا، فَلَا يَنْظُرُ إلَيْهِ حِينَئِذٍ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «مَنْ تَأَمَّلَ خَلْفَ امْرَأَةٍ وَرَأَى ثِيَابَهَا حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ حَجْمُ عِظَامِهَا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» وَلِأَنَّهُ مَتَى لَمْ يَصِفْ ثِيَابُهَا مَا تَحْتَهَا مِنْ جَسَدِهَا يَكُونُ نَاظِرًا إلَى ثِيَابِهَا وَقَامَتِهَا دُونَ أَعْضَائِهَا

ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس ، ج ٦ ص ٣٦٦ دار الفکر بیروت بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد ٢٢ صفحہ۔ ١٦٢ جدید رضا فاؤنڈیشن لاہور
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد منظر رضا نوری اکرمی نعیمی غفرلہ القوی

اردو تاریخ ٢٢/١٠/١٤٤٢ھجری بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے