6.02.2021

کسی دوسرے پیر صاحب کو اپنا مرشد کہنا کیسا ہے

Gumbade Aala Hazrat

 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎


کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنے پیرو مرشد کے علاوہ کسی دوسرے پیر صاحب کو اپنا مرشد کہنا کیسا ہے ؟ 


ساٸل محمد مزمل حسین


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب


 اپنے پیر ومرشد کے علاوہ کسی کو مرشد کہنے میں حرج نہیں معلوم ہوتا ہے ، کیوں کہ مرشد کا معنیٰ ہوتا ہے ہدایت کرنے والا سیدھی راہ بتانے والا البتہ اپنے پیرو ومرشد کے علاوہ دوسرے کو پیر ومرشد سمجھنا ممنوع ہے کیوں کہ ایک مرید کے دو پیر نہیں ہوسکتے ہاں دوسرے سے طالب ہوسکتا ہے مگر جس سے طالب ہوا ہے صرف اس سے فیض حاصل کرے اور جس پیر سے پہلے مرید ہوا ہے صرف اسی کو اپنا پیرو مرشد جانے 


ماخوذ از، فتاویٰ امجدیہ جلد چہارم صفحہ ۳۵۱ کتاب الشتی) 


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ٦ شوال المکرم ۲٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only