Headlines
Loading...
اپنے مرحوم کے نام قربانی کرنا کیسا ؟؟؟

اپنے مرحوم کے نام قربانی کرنا کیسا ؟؟؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام کہ مردوں یعنی مرحومین کے نام سے قربانی کرنا کیسا ہے؟ براےء کرم مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں محمد محسن رضا بالاسور اوڈیشہ

       جواب

جاٸز ہے اپنی واجب قربانی کے علاوہ اگر استطاعت ہو تو میت کی جانب سے قربانی کرنا جائز ور روا ہے اگر کٸی مرحومین کی جانب سے قربانی کا خواہاں ہے ،تو ایک حصہ ایک سے زیادہ مرحومین کے لیے کافی و وافی نہیں ہو سکتا ہے، بلکہ ہر ایک کی جانب سے الگ الگ حصہ کرنا لازم ہے ہاں اگر اپنی طرف سے ایک نفلی قربانی کرکے اس کا ثواب ایک سے زائد مرحومین کو پہونچاۓ تو شرعا کوٸی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے اپنی نفلی قربانی کا ثواب اپنے عزیز و اقارب کو ایصال کرے حتی کہ تمام امت مُحَمَّدیہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو اسکا ثواب پہونچاۓ چنانچہ حدیث شریف میں ہے عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ موجئين فَلَمَّا وجههما قَالَ: «إِنِّي وجهت وَجْهي للَّذي فطر السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ من أمتِي» حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت ہے آپ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوخصی چتکبرے سینگ والے مینڈھے بقرعید کے دن ذبح کیے جب انہیں قبلہ رو لٹایا تو فرمایا کہ میں نے اپنے کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے دین ابراہیمی پر ہوں ہر بے دینی سے الگ مشرکوں میں سےنہیں ہوں یقینًا میری نمازمیری قربانی میری زندگی اور میری موت رب العلمین کے لیئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم ملا اور میں مطیعین سے ہوں الٰہی یہ تجھ سے ہے اورتیرے لیئے ہے محمدمصطفےٰصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے بسم اﷲ اﷲ اکبر،پھر ذبح فرمایا احمد، ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی اوراحمد،ابوداؤد و ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا اورکہا بسم اﷲ اکبر الٰہی یہ میری طرف سے اور میرے اس امت کی طرف سے جو قربانی نہ کرسکے وفی روایۃ: اللھم تقبل من محمد وآل مُحَمَّد ومن امة مُحَمَّد ثم ضحی اور ایک روایت میں ہے کہ الہی تو اس کو مُحَمَّد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی طرف سے اور انکی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما پھر آپ نے قربانی فرمائی

(مسلم کتاب الاضاحی باب استحباب استحسان الضحیة المجلد الثانی الصفحة 154 مطبوعہ یاسر دیوبند )
عَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ حضرت سیدنا حنش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ دو بکرے قربانی دیتے تھے میں نے عرض کیا یہ کیا فرمایا مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں

(مشکوة المصابیح باب فی الاضحیة الصفحة 130 مطبوعہ مکتبہ تھانوی دیوبند )
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ اس مذکورہ حدیث شریف کے تحت رقم کرتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ حضرت علی تین بکرے قربانی کرتے تھے دوحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطابق آپ کی حیات شریف کے اور ایک اپنی طرف سے اس سےمعلوم ہوا کہ بعد وفات مرحوم کی طرف سے قربانی دیناجائزہے،ہاں اگر میت کی قربانی ہوتو اس کا سارا گوشت خیرات کردیا جائے اگر وارث اپنی جانب سے محض ثواب کے لیئے میت کی طرف سے قربانی کرے تو خودبھی کھائے اورفقراءو امیرسب کوکھلائے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی توتبرک ہے،مسلمان برکت کے لیئے کھائیں،آج بھی بعض خوش نصیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے

(مرأة المناجیح شرح مشکوة المصابیح المجلد الثانی الصفحة 364 مطبوعہ الکیبر پبلی کیشنز دھلی )
خاتم المحققین علامہ سید شاہ ابن عابدین الشامی قدس سرہ النورانی تحریر فرماتے ہیں کہ وقد صح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح

(الدر المختار کتاب الاضحیة المجلد التاسع الصفحة 395 مطبوعہ دار الکتاب دیوبند )
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ

0 Comments:

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ