7.16.2021

دو بیویوں کے اولادوں کو مال کیسے تقسیم کرے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع مسئلہ میں کہ زید کے والد نے دو شادی کی پہلی بیوی سے 3 بیٹی 2 بیٹے ہیں اور پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہے۔ لہٰذا زید کے والد کے نام سے 10 کٹھا کھیت کی زمین ہے اور 3 کٹھے میں مکان ہے اسے شرعی طور پر کیسے تقسیم کریں گے۔ جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ المستفتی محمد مرتضی دہلی

       جواب

زید کے والد کا کل ترکہ جو اسکی ملکيت تھا اسمیں سے تجہیز و تکفین، کے بعد اولا اسکے قرض کی ادائیگی کی جاۓ گی جبکہ اس پر قرض ہو ثانیا اگر اس نے کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت کی تنفیذ کرنے کے بعد کل جائیداد کو بہتر (72) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے مرحوم کی بیوی کو نو (9)، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) اور ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے ملیں گے۔ اگر فیصد کے حساب سے تقسیم کریں مرحوم کی بیوی کو % 12.5 فیصد ہر ایک بیٹے کو % 19.44 فیصد ہر ایک بیٹی کو % 9.72 فیصد ملے گا چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے قال الله تعالیٰ ۗ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ

(القرآن سورۃ النساء، الایہ 11،12)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only