جو کہے میں وہابی ہوں اسکے لئے کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  حضرت میرا ایک سوال ہے کی ایک شخص سنی ہے مگر وہ شخص بولا کہ میں وہابی ہوں حالانکہ وہ بعد میں بول رہا ہے کی میں وہابی نہیں ہوں صرف ایسے ہی باتوں باتوں میں بول دیا تھا... تو کیا وہ شخص کافر ہوگیا اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں حضرت بہت مہربانی ہوگی آپ کی.. المستفتی شاکر علی ازہری سورت گجرات

       جواب

جی ہاں وہ شخص کافر ہو گیا اگرچہ سے مذاق میں کہا ہو یا غصہ میں کہا ہو اور بعد میں وہ اپنے قول سے رجوع کرے اس کے باوجود بھی وہ کافر ہی مانا جائے گا لہذا ایسے شخص پر لازم ہے کہ فورا کلمہ پڑھے اور توبہ استغفار کرے شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔۔۔۔ جو شخص جھگڑے کی حالت میں یا مذاق کے طور پر یہ کہے کہ میں دیوبندی یا وہابی ہوں تو وہ یقینا دیوبندی وہابی کافر مانا جائے گا فتاویٰ عالمگیری میں ہے مسلم قال أنا ملحد یکفر کوئی مسلمان کہے کہ میں کافر ہوں تو وہ کافر ہو گیا امام ابن حجر مکی اعلام میں فرماتے ہیں علمنا بما دل علیہ لفظہ صریحا فقلنا لہ أنت حیث أطلقت ھذا اللفظ و لم تاوّل کنت کافرا وان کنت لم تقصد بذلک انا نحکم بالکفر باعتبار الظاھر و الارادة و عدمھا لاشغل لنا بھا ہم اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جس پر لفظ صریح دلالت کرتا ہے اور ہم کہتے ہیں جب تو نے اس لفظ کا اطلاق کیا اور تأویل نہیں کی تو کافر ہو گیا اگرچہ تیرا یہ قصد نہ ہو اس لئے کہ ہم ظاہر کے اعتبار سے کفر کا حکم کرتے ہیں ارادہ اور عدم ارادہ سے ہمیں کوئی کام نہیں

فتاویٰ شارح بخاری جلد٢ ص٣٧٦
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ بھی اسی طرح تحریر فرماتے ہیں ۔۔۔۔ کلمہ کفر مذاق و تمسخر سے بھی کہنا کفر ہے اگرچہ اس کے معنی دل میں کچھ اور ہی لئے جائیں اور ان پر اعتقاد بھی نہ ہو مذاق سے دراصل استخفاف پیدا ہوتا ہے جب گناہ کا استخفاف کفر ہے تو کفر کا استخفاز تو بدرجہ اتم کفر ہے خواہ یہ بات نہ جانتا ہو کہ یہ کفر ہے مگر نہ جانے سے جرم کی معافی نہیں ہو سکتی ہے

تکمیل الایمان صفحہ١٩٦ (آل انڈیاتنظیم علماۓ اسلام دھلی)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شخص مذکور کلمہ پڑے اور توبہ استغفار کرے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

مدرسہ دارالعلوم ارقم میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے