دوران حج اگر انتقال ہو گیا تو اسے حاجی کہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اگر کوئی شخص حج کرنے گیا اور وہیں پر حج کرنے سے پہلے انتقال کر گیا تو کیا اُسکو حج کا ثواب ملےگا یا نہیں اور اسکو حاجی که سکتے ہیں یا نہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی سائل محمد ناصر کاظمی الہ آباد

       جواب

جو شخص حج یا عمرہ کو جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، اس کے لئے قیامت تک حج اور عمرہ کا ثواب لکھا جاۓ گا لیکن اسکو حاجی نہیں کہ سکتے کیونکہ مخصوص دنوں میں مخصوص مقامات پر مخصوص ارکان ادا کرنے کو حج کہتے ہیں اسکے کرنے والے کو حاجی کہتے ہیں حدیث شریف میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ”جو شخص حج کے لۓ نکلا اور مر گیا قیامت تک کے لۓ اسکے لۓ حج کرنے والے کا ثواب لکھا جاۓ گا اور جو عمرہ کرنے کے لۓ نکلا اور مر گیا اسکے لۓ قیامت تک عمرہ کرنے کا ثواب لکھا جاۓ ھا اور جو شخص جہاد میں گیا مر گیا اسکے لۓ قیامت تک غازی کا ثواب لکھا جاۓ گا

(مسند ابی یعلی ، مسند ابی ھریرة ، ۵ / ۴۴۱ ، حدیث : ۶۳۲۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیرو)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ مٶرخہ 8 ذی الحجہ 1442 ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے