کیا پیارے نبی اپنی ظاہری زندگی میں اپنے امتیوں کے قبر پر تشریف لے جاتے تھے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کے بارے میں جب کسی مومن بندہ کا انتقال ہوتا ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مومن بندے کی قبر میں تشریف لاتے ہیں اس پر تمام مومنین کا اتفاق ہے اب سوال یہ پیدا ہو تاہے کہ جب حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم حیات ظاہری سے تھے تو اس وقت بھی لوگوں کی موت ہوتی تھی جیسے کہ بعض صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات زندگی میں ہی پردہ کر گئے تو کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کرام کی قبر میں تشریف فرما ہوئے تھے یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی

المستفتی محمد آفتاب عالم بانکا بہار ممبر آف 2️⃣گروپ یارسول اللہﷺ
       جواب

جی ہاں نبی کریم ﷺ اپنی حیات ظاہری میں بھی وقتِ سوالاتِ نکیرین علیھماالسلام مٶمنین کی قبور میں موجود ہوا کرتے تھے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ؟ فَأَمّا الْمُؤْمِنُ (أَيِ الْكَامِلُ) فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَيَقُولُ لا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ، فَيُقَالُ لا دَرَيْتَ وَلا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ) ترجمہ ....حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب آدمی کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیرکر واپس چلے جاتے ہیں وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہےاس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں پوچھتے ہیں اس شخص یعنی محمدﷺ کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس سے کہا جاتا ہے دوزخ میں جو جگہ تھی اس کو دیکھ لے اللہ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانا دیا نبیﷺ نے فرمایا تو وہ اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے کافر یا منافق فرشتوں کے جواب میں کہتا ہے میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے پھر اس سے کہا جائے گا نہ تو نےخود غور کیا اور نہ اچھے لوگوں کی پیروی کی پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان میں بڑے زور سے مارا جاتا ہےوہ اتنے بھیانک طریقہ سے چیختا ہے کہ انسان اور جنّ کے سوا اس کے ارد گرد کی تمام مخلوق سنتی ہے

صحیح البخاری ، جلد اول ، (باب المیت یسمع خفق النّعال ) صفحہ ١٧٨ (مجلس برکات مبارکپور)
اس حدیث میں نکیرین کے سوال ، ماکنت تقول فی ھذاالرجل محمدﷺ ، میں لفظ *ھذا* قابل غور ہے ھذا اسم اشارہ جو نحویوں کی اصطلاح میں قریب کےلیۓ مستعمل ہوتا ہے تو نکیرین کے سوالات میں لفظ ھذا لا کر کے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ قبر میں موجود ہے تو مذکورہ حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ جس طریقے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج مومنین کی قبر میں تشریف فرماہوتے ہیں اسی طریقےسے حیات ظاہری میں بھی مومنین کی قبر میں تشریف فرما ہوا کرتے تھے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے