7.18.2021

کیا نکاح میں امام صاحب خود وکیل بن سکتے ہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نکاح پڑھانے والا کاضی (امام صاحب) خود اس نکاح کی وکالت کر سکتا ہے کہ نہیں یا پھر الگ سے وکیل اور گواہان کا ہونا ضروری ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ المستفتی محمد ناظر القادری

       جواب

نکاح میں گواہ تو ہوں گے ہی کیوں کہ نکاح کے گواہوں کا ہونا شرط ہے البتہ قاضی (امام صاحب وغیرہ) خود وکالت کرے اور نکاح پڑھاۓ الگ سے وکیل بنانا سراسر غلط ہے اس طریقے سے اگر نکاح پڑھایا تو نکاح تو ہوجائے گا مگر فضولی ہوگا یعنی خلاف طریقۓ اسلاف و فیوض و برکات سےخالی ہوگا ہاں اگر کوئی لڑکی سے کہے کہ فلاں امام صاحب یا قاضی صاحب تیرے نکاح کے وکیل ہیں لڑکی اجازت دے دے تو یہ بھی درست ہے حضور صدر الشریعہ رحمة اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔۔۔۔ یہ جو تمام ہندوستان میں عام طور پر رواج پڑا ہوا ہے کہ عورت سے ایک شخص اذن (اجازت) لے کر آتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں وہ نکاح پڑھانے والے سے کہہ دیتا ہے میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھا دیجئے یہ طریقہ محض غلط ہے وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ اس کام کے لیے دوسرے کو وکیل بنا دے اگر ایسا کیا تو نکاح فضولی ہوا اجازت پر موقوف ہے تو اجازت سے پہلے مرد و عورت ہر ایک کو توڑ دینے کا اختیار حاصل ہے بلکہ یوں چاہیے کہ جو پڑھائے وہ عورت یا اس کے ولی کا وکیل بنے خواہ یہ خود اس کے پاس جا کر وکالت حاصل کرے یا دوسرا اس کی وکالت کے لیے اذن لاۓ کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کو تو نے وکیل کیا کہ وہ تیرا نکاح فلاں بن فلاں بن فلاں سے کردے عورت کہے ہاں

(بہارشریعت ح ٧ ص١٥ مکتبہ مدینہ دھلی )
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس مدرسہ دارالعلوم ارقم میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only