لحن جلی کے ساتھ قرآن پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  ایک مسلہ ہے کہ تجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا چاہیے لیکن بہت سے لوگ ہیں جو بغیر حرف کی ادائیگی کے قرآن پڑھتے ہیں اور انہیں بتا تے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے مولوی صاحب ایسے ہی پڑھا یئں ہیں تو بغیر تجوید کے قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے اس لیئے کہ حرف کو بدلنے سے معنی میں تبدیلیاں ہو جاتی جیسے ت کو ط ز کو ج ض کو ذ اور س کو ش پڑھتے ہیں تو اس صورت میں اس کے لیئے کیا حکم ہے تمام علماء دین سے گذارش ہے کہ اس کو تھوڑا تفصیل سے بیان کریں بہت مہربانی ہوگی سا ئل محمد محفوظ رضا بمقام شیر گھا ٹی

       جواب

بغیر تجوید و صفات یعنی حروف وحرکت کی تبدیلی اور صفات عارضہ و صفات غیر ممیزہ کے ادا کیے قران پڑھنا حرام و مکروہ ہے جیسا کہ اسلامی تعلیمی نصاب (جدید) میں ہے جس جگہ سے حرف نکلتا ہے اسے مخرج کہتے ہیں اور جس انداز سے حرف ادا ہوتا ہے اس کو صفت کہتے ہیں حروف کو ان کے مخارج اور صفات کے ساتھ ادا کرنے کو تجوید کہتے ہیں اور حروف کو ان کے مخارج اور صفات کے ساتھ ادا نہ کرنے کو لحن کہتے ہیں لحن کی دو قسمیں ہیں لحن جلی ؛ لحن خفی *لحن جلی بڑی غلطی کو کہتے ہیں مثلا حرف یا حرکت بدل جانا ؛ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کا پڑھنا اور سننا دونوں حرام ہیں لحن خفی چھوٹی غلطی کو کہتے ہیں مثلا صفات عارضہ اور صفات غیر ممیزہ کا ادا نہ کرنا -اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کا پڑھنا اور سننا دونوں مکروہ ہیں

صفحہ نمبر ۸۱۵ مطبوعہ مکتبہ طیبہ ۱۲۶ / کامبیکر اسٹریٹ ممبئی ۳
لہذا جو شخص تجوید کی رعایت کے بغیر پڑ ھتا ہے یعنی لحن جلی کرتا ہے تو حرام اور لحن خفی ہے تو مکروہ ؛ اور اس کا اپنے اساتذہ کی طرف منسوب کرنا کہ ہمیں ایسا یعنی (خلاف تجوید)ہی پڑھایا ہے اگر یہ حقیقت پر مبنی ہے تو دونوں گناہ گار ورنہ اساتذہ پر صریح بہتان اور اپنی کوتاہی و بوقت تعلیم عدم توجہی کی پردہ داری اس کو چاہیے کہ وہ تصحیح مخارج میں سعی تام کرے ورنہ تا عمر گناہ گار و مستحق عذاب نار ہو کہ تجوید جس سے حرف صحیح ادا ہو اور حروف ایک دوسرے سے ممتاز رہے اور تبدیل وغلط خوانی سے بچے واجب عین ہے جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملّت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں اس قدر تجوید جس کے باعث حرف کو حرف سے امتیاز اور تلبیس وتبدیل سے احتراز حاصل ہو؛ واجبات عینیہ و اہم مہمات دینیہ سے ہے؛ آدمی پر تصحیح مخارج میں سعی تام؛ اور ہر حرف میں اس کے مخرج سے ٹھیک ادا کرنے کا قصد و اہتمام لازم ہے؛ کہ قران مطابق ما انزل اللہ تعالی پڑھے؛ نہ ( معاذ اللہ) مداہنت بے پروائی؛ کہ اج کل کے عوام بلکہ یہاں کے کثیر بلکہ اکثر خواص نے اپنا شعار کر لیا

فتاوی رضویہ جلد ۵ صفحہ نمبر ۳۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے