مسلم بچے کو ہندوں کے دیوتاؤں کے نام سے پکارنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  میرا سوال یہ ہےکہ کسی مسلم بچے کو ہندوں کے دیوتاؤں کے نام سے پکارنا جیسے.. رام. بھرت. بھولے شنکر وغیرہ وغیرہ کیسا ہے دلیل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل محمد رضا سرلاہی نیپال

       جواب

رب کریم نے قرآن مقدس کے اندر ارشاد فرمایا ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان

(پ۲۶ سورۃ الحجرات آیت ۱۱)
کہ"اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا "(کنزالایمان) اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں سیدنا حضرت امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد کفر کے ساتھ پکارا جائے آپ کے الفاظ یہ ہیں یدعی بالکفر بعدالاسلام

(ص۸۰۰ دار الحضارہ للنشر والتوزیع)
یعنی کوئی شخص جب اسلام قبول کرلے تو اب تم اسے کفر کے ساتھ مثلا یا فاسق ،یا کافر وغیرہ کے ساتھ نہ پکارو جیساکہ اس کی تشریح میں علامہ بدرالدین احمد عینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تنابزوا یدعی بالکفر بعدالاسلام اشار بہ الی قولہ تعالیٰ (ولا تنابزوا بالالقاب)وھو ان یدعی الرجل بالکفر بعدالاسلام،وحاصلہ ما قالہ مجاھد :لا تدعو الرجل بالکفر وھو مسلم ،وعن عکرمۃ :ھو قول الرجل للرجل فاسق،یا منافق،یاکافر

(عمدۃ القاری ج ۱۹ ص ۲۶۰دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
یعنی امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول تنابزوا یدعی بالکفر بعدالاسلام سے ولاتنابزوا بالالقاب والی آیت کیطرف اشارہ ہے اور یہ ہےکہ آدمی اسلام کے بعد بھی کفر کے ساتھ پکارا جائے اس کا ماحصل وہی ہے جو حضرت مجاہد نے بیان فرمایا کہ کہ تم کسی انسان کو جبکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے کفر کے ساتھ نہ پکارو اور حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ کفر کے ساتھ پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو فاسق،یا منافق اور یا کافر کہکے پکارے مزید اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہےکہ مدینہ میں ہر کسی کے دو یا تین نام ہوتے تھے اور ان کے ذریعہ انہیں غصہ دلانے کے لئے یا رسوا وغیرہ کرنے کے لئے پکارا جاتا تھا جب سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں یہ معاملہ پیش ہوا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی چنانچہ وہی علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ حضرت ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے شان نزول بیان فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں وسبب نزولہ ما رواہ ضحاک ،قال:فینا نزلت ھذہ الآیۃ فی بنی سلمۃ قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ وما منا رجل الا لہ اسمان او ثلاثۃ .فکان اذا دعا الرجل الرجل قلنا یا رسول اللہ انہ یغضب من ھذا فانزل اللہ تعالیٰ (ولا تنابزوا بالالقاب)(الحجرات)۔ (ایضا) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ بعد اسلام کسی مسلمان کافروں کے سے نام کے ساتھ نہ پکارا کہ یہ سخت ممنوع ہے اور کہنے والا فاسق ہے جیساکہ آیت مذکورہ سے واضح ہے نیز عالمگیری میں ہے وفی الفتاوی التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالیٰ فی عبادہ ولا ذکرہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ولا استعملھا المسلمون تکلموا فیہ والاولی ان لا یفعل کذا فی المحیط

(ج ۵ص ۳۶۲)
لہذا کسی مسلمان بچے کو معبودان باطلہ کے مذکورہ نام کے ساتھ پکارنا سخت ممنوع ہے اور کہنے والا فاسق ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

کشنگنج بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے