7.17.2021

سیّد سے کفر سرزد ہو جائے تو کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے متعلق کہ اگر کسی سید سے کفر سرزد ہو جائے تو اس کے اعمال اکارت جائے گے اور اس کی سیادت باقی رہے گی اور اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رضوی رحمتہ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں سائل محمد اعجاز احمد رضا قادری رضوی مالیگاوں ضلع ناسک مہاراشٹر ہند

       جواب

اگر واقعی میں کسی سید سے کفر سرزد ہوجائےتو اس کی سیادت باقی نہ رہے گی اور جب سیادت ہی نہ رہی تو اس کی تعظیم بھی حرام ہے کیونکہ جو وجہ تعظیم تھی وہی نہ رہی یعنی سیادت، اور بے شک اس کے اعمال اکارت ہوجائیں گے، چنانچہ امام اہلسنت حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہوں ان اعمال کے سبب اس سے تنفر نہ کیا جائے اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ حد کفر تک نہ پہنچے جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ہاں اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچے جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی قال ألله تعالى " إنه ليس من اهلك إنه عمل غير صالح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے نوح علیہ السلام وہ یعنی تیرا بیٹا تیرے خاندان اور گھرانے والوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں, شریعت نے تقویٰ کو فضیلت دی ہے " ان أمركم عند ألله أتقكم" (اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو) مگر یہ فضل ذاتی ہے فضل نسب منتہائے نسب کی افضلیت پر ہے سادات کرام کی انتہائے نسب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ و سلم پر ہے؛؛ اس افضل انتساب کی تعظیم ہر متقی پر فرض ہے کہ وہ اس کی تعظیم نہیں حضور صلی اللہُ تعالیٰ علیہ و سلم کی تعظیم ہے،

(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲ صفحہ ٤۲۳ دعوت اسلامی)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد معصوم رضا نوری عفی عنہ

۱۵ ذی القعدہ ۲٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only