مردے کے ساتھ قبرستان غلہ لے جانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ میت کے ساتھ غلہ قبرستان لیجانا جائز ہے یا نہیں ؟ مدلل کے ساتھ جواب عنایت فرمایں المستفتی ،،،، محمد انور خان رضوی علیمی پتہ شراوستی یوپی

       جواب

اس میں کوئی شک نہیں ہے جب مسلمان دنیا سے انتقال کر جاتا ہے تو اس کی روح کو ثواب پہنچانا قرآن کی تلاوت کے ذریعے درود شریف کلمہ ذکر و اذکار کے ذریعے یا کسی نیک عمل کے ذریعے یا غریبوں کو کھانا وغیرہ کھلانا و کپڑا پہنانے کے ذریعے یہ سب مستحسن امور ہیں ان سے میت کو تسکین و سرور حاصل ہوتا ہے اور یہ باعث نجات بھی بنتے ہیں اور یہ سب سنت سے ثابت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے عن سعد بن عبادة رضي الله عنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أيٌّ الصدقة أعجب إليك؟ قال ﷺالماء فحفر بئراً فقال هذه لأم سعد حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا کونسا صدقہ بہتر ہے آپ نے ارشاد فرمایا پانی انہوں نے کنواں کھودا اور کہا یہ سعد کی ماں کے لئے ہے

( سنن ابی داٶد ، کتاب الزکوٰة ، صفحہ ٢٣٦ زکریابک ڈپودیوبند )
ضروری بات جس وقت حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی ماں کا انتقال ہوا اس وقت پانی کی قلت تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے کنواں کھودنے کا حکم دیا پتہ چلا کہ جس دور میں جس چیز کی ضرورت ہو اس کو فراہم کرنا یہ کار خیر ہے تو صورت مسؤلہ میں غلہ یعنی اناج چاول دال وغیرہ میت کی طرف سے فقراء میں تقسیم کرنا میت کے لئے باعث ثواب ہے اب اگر قبرستان کے اردگرد فقرا جمع ہو جاتے ہیں تو میت کے ساتھ غلہ اسلیۓ لے جانا تاکہ ان فقراء میں تقسیم کر دیا جائے بالکل جائز ہے اور اگر محض اس نیت سےلےجانا کہ جب ہم غلہ میت کےساتھ لے کے جائیں گے تو یہ میت کے لئے کار خیر ہے تو یہ سراسر جہالت ہے خلاصہ یہ ہے کہ کہ میت کے لئے جو بھی غلہ جمع ہوتا ہے اس کو غریبوں و فقیروں میں تقسیم کر دیا جائے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے