8.31.2021

برہنہ ہوکر غسل کرنا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص برہنہ ہوکر غسل کر تا ہے تو کیا اس کا غسل ہو جائے گا اور اس سے نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں حضرت ساںٔل محمد سلطان احمد کرلا ممبئی

       جواب

برہنہ ہوکر غسل کرنے سے غسل ہو جائے گا مگر غسل کرنے میں موضع احتیاط یعنی بند جگہ غسل خانہ وغیرہ میں نہائے کہ بین الناس ستر کھولنا حرام ہے جس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوگا جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء کا ستر تو ضروری ہے اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کرے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے مزید فرماتے ہیں اگر غسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ موضع احتیاط ہو تو کوئی حرج نہیں

بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحہ نمبر تین ۳۱۹/۲۰
لہذا غسل برہنہ ہوکر ہو جائے گا اور جب غسل ہو گیا تو نماز بھی اس غسل سے پڑھنا جائز و درست ہے نماز ہو جائے گی لیکن بہتر یہی ہے کہ غسل خانہ وغیرہ میں بھی مذکورہ ستر کر کے نہائے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only