جو داڑھی کٹوائے اسکو ممبر رسول پر نعت پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام کہ اجکل اکثر شعرا ٕ غلط راہ روی کا شکار ہیں داڑھی کٹانا یا ایک مشت سے کم کرنا ان کا عام فیشن بن چکا ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والا تارک نماز امرد پسند اغلام باز بر سر ممبر نعت پاک پڑھ سکتا ہے کہ نہیں شرعا اسکے لۓ شریعت کا کیا حکم ہے عین شریعت کے مطابق بغیر کسی کے خطرہ اور خوف الم کے اصل مسٸلہ سے آگاہ فرماکر احقاق حق کریں تاکہ کل مولی تعالی کے سامنے حق گو کی بنا پر اجر جزیل مل سکے ورنہ برعکس کرنے پر ضرور عدالت الہی میں پوچھ تاچھ ہوگی امید ہے شریعت کو ہی کو فوقیت دیکر مدلل جواب عنایت فراٸیں گے المستفتی شیر علی ثمروی الور راجستھان

       جواب

ان افعال قبیحہ کا مرتکب سخت ترین کباٸر کا مرتکب ہے اور ان افعال کا ارتکاب کرنے والا فاسق و فاجر بلکہ نہایت سخت ترین فاسق و فاجر مستحق عذاب نار غضب قہر قہار میں گرفتار ہے ایسے شخص کو ممبر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم پر بٹھانا اور اسے مجلس یا جلسہ یا کانفرنس وغيرہ میں بلاکر نعت پڑھوانا حرام ہے چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ سوال: مخالفِ شرع مثلاََ ڈاڑھی کترواتا یا منڈواتا ہو، تارکِ صلوۃ ہو اس سے میلاد (نعت ) پڑھوانا کیسا ہے؟ آپ جوابا تحریر فرماتے ہیں ’’افعال مذکورہ سخت کبائر ہیں اور ان کا مرتکب اشد فاسق و فاجر مستحق عذاب یزداں و غضب رحمن اور دنیا میں مستوجب ہزاراں ذلت و ہوان، خوش آوازی خواہ کسی علتِ نفسانی کے باعث اسے منبرو مسند پر کہ حقیقتہََ مسندِ حضور پُر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم ہے تعظیماََ بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھو انا حرام ہے تبیین الحقاٸق و فتح المعین و طحطاوی علی مراقی الفلاح وغيرہا میں ہے فی تقدیم الفاسق تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا فاسق کو آگے کرنے میں اسکی تعظیم ہے حالانکہ بوجہ فسق لوگوں پر شرعاََ اسکی توہین کرنا واجب اور ضرور ی ہے

( الفتاوی الرضویہ المجلد الثالث والعشرون الصفحة 734 مطبوعہ رضا فاٶنڈیشن لاھور )
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ مٶرخہ 18 ماہ محرم الحرام 1443 ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے