ملاقات کے وقت یہ کہنا کہ آپ کی دعا ہے کیا درست ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے پر کہ جب دو لوگ کی ملاقات ہوتی ہے تو بعد سلام خیریت معلوم کرنے پر یہ جملے کہتے ہیں کہ آپ کی دعا ہے۔ جب کی کوئی دعا کرتا ہی نہیں تو یہ تو جھوٹ ھوا کہ نہیں ؟ اور ایسا کہنا کیسا ہے ؟ رہنمائی فرمائیں۔

سائل محمد مزّمل حسین بہار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

بعد ملاقات سلام کے بعد یہ کہنا آپ کی دعا، ہے درست ہے یہ جھوٹ نہیں ہے ظنؤالمومنین خیرا کے تحت اپنے مومن بھائی کے بارے میں اچھا گمان کرنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے دعا کرتا ہو اور دعا کرنا بھی چاہیے  بالفرض اگر دعا نہ بھی کرتا ہو جب بھی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ سلام توکرتا ہے اور سلام بھی دعا ہے یعنی تم پر سلامی ہو اور اللہ رحمت حدیث شریف میں ہے امام احمدنے انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا(مصافحہ کیا) تو اﷲتعالٰی کے ذمہ میں یہ حق ہے کہ ان کی دعا کو حاضر کردے اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی( بہار شریعت حصہ 16 مصافحہ و معانقہ و بوسہ و قیام کا بیان


واللہ تعالیٰ اعلم باالصوب

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۱۹/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۸ / ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے