کربلا میں چڑھاوا کی منت مانگنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ دیہات وغیرہ میں جو کربلا بناتے ہیں اور وہاں پر چادر چھڑاتے اور منت مانتے ہیں اور بہت سارے کام وہاں پر کرتے ہیں تو کیا یہ سب کرنا درست ہے یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمایں سائل محمد انور خان رضوی علیمی پتہ شراوستی یوپی

       جواب

فرضی مزار یا کربلا بنانا اور وہاں فاتحہ پڑھنا ، چادر چڑھانا ، اور عرس کرنا منت ماننا ، اس کو مزار کہنا یہ سب ناجائز و بدعت اور کھلی گمراہی ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے کہ " فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرنا ناجائز و بدعت ہے

( فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ ۱۱۵ مکتبہ رضویہ کراچی )
اور نیز اسی میں ہے کہ " قبر بلا مقبور کی زیارت کی طرف بلانا اور اس کے لئے وہ افعال کرانا گناہ ہے اس جلسئہ زیارت قبر ہے ۔۔۔۔ مقبور میں شرکت جائز نہیں اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصا وہ جو ممدوح معاون ہیں سب گنہگار وہ فاسق ہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ لا تعاونوا علی الاثم و العدوان " (المرجع سابق) اور حضور فقیہ ملت حضور مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اسی طرح ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ " مصنوعی قبر کی زیارت حرام ہے اور حدیث شریف میں لعنت آئی ہے فتاوی عزیزیہ میں ہے لعن اللہ من زار بلا مزار لہذا کسی بابا کی مصنوعی قبر کو زیارت کرنا اور وہاں چندہ دینا اور کوئی چیز بھی لگانا یا چڑھانا سخت ناجائز و حرام ہے مسلمانوں کو ایسی خرافات باتوں سے بچنا لازم ہے اگر نہیں بچیں گے تو سخت تو گنہگار مستحق عذاب نار ہو ں گے

( فتاوی فیض الرسول جلد دون صفحہ ۵٤٣ شبیر برادرز لاہور ) (اور ایسا ہی فتاویٰ بدر العلماء صفحہ ۳۰٦ میں ہے)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ۔ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۱۹ ذی الحجہ ۲٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے