قبرستان میں چھوہارے تقسیم کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دفن میت کـے بعد قبرستان میں جو چھوہارے بانٹتے ہیں تـو یہ کیسا ہے ؟ المستفتی محمد حسنین رضا ازھری پیلی بھیتی ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہ ﷺ

       جواب

میت کی جانب چھوہارے یا دیگر حلال اشیاء خوردنی و غیر خوردنی تقسیم کرنا جائز و مستحسن ہے جس کا ثواب مسلم میت کو پہنچے گا اور چھوہارے وغیرہ قبرستان لے جانے کا جو رواج ہے وہ بایں معنی ہے کہ دور دراز سے لوگ آتے ہیں تو ان چھوہاروں پر فاتحہ کرکے بین الناس تقسیم کرکے ان پانی پینے کا انتظام کرنا ہے اور اگر براے میت تصدق کی نیت بھی ہو تو کوئی قباحت نہیں کہ نفل تصدق امراء غرباء سب کے لئے جائز و درست ہے ہاں تصدق کے لیے کسی بھی چیز کو قبرستان لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں جہاں چاہیں ہیں وہاں تصدق کریں ؛ بہتر یہی ہے کہ گھر پر ہی مسلم فقراء کو تقسیم کیا جائے قبرستان میں لے جانے کو ضروری سمجھنا یہ جہالت ہے ہاں اگر قبرستان میں اس موقع پر غرباء اور فقراء جمع ہو جاتے ہیں تو انہیں لے جا کر دینے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے میت کی طرف سے گیہوں چاول وغیرہ کا صدقہ خیرات کرنا جائز و مستحسن ہے اس کا ثواب مسلم میت کو پہنچے گا مگر اس کے لیے گیہوں یا چاول وغیرہ کو میت کے ساتھ قبرستان تک لے جانے کی حاجت نہیں اگر کوئی اس لیے ایسا کرے کہ اس طور پر میت کو صدقہ کا ثواب پہنچے گا تو جہالت ہے اور اگر ایسا اس لیے کیا جاتا ہو کہ قبرستان میں مسلمان فقراء و مساکین اکٹھا ہو جاتے ہیں وہاں ان کو دینے میں آسانی ہو گی تو اس میں کوئی حرج نہیں

(فتاوی مرکز تربیت افتاء ج ۱ ص ۳۷۹)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہ جہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے