8.17.2021

کیا ختم عدت کے بعد بھائی کے گھر رہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر کے انتقال، کــے بعد عورت نے عدت کی اور عدت پوری ہونے کے بعد اگلے دن اس عورت کے بھائ اپنے گھر لے آئے اس پر ایک امام صاحب نے کہا وہ عورت دو دن سے زیادہ اپنے بھائیوں کے گھر نہیـــــں رک سکتی تو ایسا امام صاحب نے جو کہا ہے تو کیا یہ بات صحیح ہے علمائےاسلام میری رہنمائ فرمائیں محمّد نسیم القادری مرادآبادی

       جواب

ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو کہ بیان کیا کہ بعد انقضاء عدت عورت اپنے بھائیوں کے گھر دو دن سے زیادہ نہیں رہ سکتی؛ یہ تو بھائی کی گنجائش پر ہے بھائی وغیرہ اس کے محارم اسے اگر رکھنا چاہیے تو دو دن کے علاوہ اس کی رضا سے جتنا چاہیں اپنے گھر رکھ سکتے ہیں اور بعض جگہ تو یہ رواج ہے کہ بعد عدت عورت کے رشتےدار یعنی اس کے مائکے والے اس کے محارم اسے اپنے یہاں بلا کر دعوت کھلاتے ہیں کپڑے دیتے ہیں اور مہندی چوڑی وغیرہ دیتے ہیں ان سب کو کتب فتاویٰ میں معتدہ پر شفقت اور مندوب بیان کیا گیا ہے ؛ اب چونکہ یہ بات امام صاحب نے کہی ہے اور امام صاحب مسئلہ صحیح بتاتے ہیں مگر اس معاملے میں ان سے چوک ہو گئ تو امام صاحب کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے سے رجوع کریں اور اگر بغیر علم کے جان بوجھ کر کے یوں ہی فتوی دیتے ہیں تو سخت گناہ گار ان پر توبہ لازم ہے لہذا ان کو چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں فتویٰ دینے سے بچیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ جو بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے تو فتوی دینے کا گناہ اسی کے سر ہوتا ہے

ابو داؤد شریف
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only