بیاز سے لی ہوئی زمین پر مسجد تعمیر کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرما تے ہیں علماءکرام مسئلہ ھذا میں بیاز سے لی ہوئی زمین پر مسجد تعمیر کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ مع حوالہ مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں المستفی: محمد نسیم رضا نوری پورنیہ بہار

       جواب

سود و بیاز کی رقم سے مسجد تعمیر کرانا ناجائز ہے اگر تعمیر کرادیا تو وہ شرعاً مسجد ہے اور اس میں نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور اسی طرح

فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ٣٥٨
میں ہے سود و بیاز کی رقم کو مسجد و مدرسہ میں لگانے کی ایک صورت ہے کہ اس رقم کو فقیر پر تصدق کر دے اور وہ رقم مسجد و مدرسہ میں لگا سکتا ہے اور سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ حرام روپیہ کسی کام میں لگانا جائز نہیں نیک کام ہو یا اور سوا اس کے کہ جس سے لیا ہے اسے واپس کردے یا فقیروں پر تصدق کر دے بغیر اس کے کوئی حیلہ اس کے پاک کرنے کا نہیں،اسے خیرات کر کے جیسا پاک مال پر ثواب ملتا ہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام بلکہ فقہاء نے کفر لکھا ہے ہاں جو شرع نے حکم دیا ہے کہ حقدار نہ ملے تو فقیروں پر تصدق کر دے اس حکم کو مانا تو اس پر ثواب کی امید کر سکتا ہے ،مسجد مدرسہ وغیرہ میں بعینہ روپیہ نہیں لگایا جاتا بلکہ اس سے اشیاء خریدتے ہیں خریداری میں اگر یہ نہ ہوا ہو کہ حرام دکھا کر کہا کہ اس کے بدلے فلاں چیز دے اس نے دی اس نے قیمت میں زر حرام دیا تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتی

احکام شریعت حصہ صفحہ ١١٤ مطبوعہ الکبیر پبلیکیشنز
صورت مسئولہ میں مسجد تعمیر کرنا جائز نہیں جب کہ زمین خریدتے وقت اس یعنی حرام روپیہ کا ذکر کیا ہو اور اگر زمین خریدتے کچھ نہ ہو تو اس زمین پر مسجد تعمیر کرنا جائز ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری تنویری غفرلہ

٢٠ محرم الحرام بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے