عورتوں کو تالاب یا نہر کے کنارے حضرت خضر علیہ السلام کے نام سے فاتحہ خوانی کرانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسلہ کے بارے میں۔بہار و جھارکھنڈ کے کچھ علاقوں میں خاد خضر کےنام سے ایک تہوار مناتے ہیں مسلمان لوگ اور ندی و نہر یا پھر اپنے گھر کے نل کے پاس فاتحہ دلاتے ہیں حضرت خضر علیہ السلام کے نام سے کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی سائل کا نام محمد شاہ نواز حسین رضوی۔۔مقام انصاری بگہ۔۔ہری یر گنج۔ضلع پلامو ں۔جھار کھنڈ

       جواب

الجواب 👇 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق بالصواب پہلی بات تو آپ یہ ذہین نشی کر لیجئے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا فاتحہ جب چاہے دلا سکتے ہیں اس میں دن یا مہینے قید نہیں اور ہاں بہتر اور انسب طریقہ یہ ہے کہ گھر پر ہی اپنی حیثیت کے مطابق اچھا کھانا پکائیں اور پھر اس میں فاتحہ خوانی کرائیں فقط جیسا کہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے نام سے فاتحہ دلانا جائز و درست ہے مگر اسکے لئے عورتوں کا تالاب وغیرہ پر جانا کشتی چھوڑنا یہ سب جہالت اور تشبیہ ہنود ہے اس سے بچنا لازم ہے اور انکی فاتحہ کے لئے تالاب یا ندی کے کنارے نہ جائے بلکہ گھر میں ہی دلائیں کہ گھر میں اللہ و رسول کا ذکر ہونا باعث نعمت و رحمت ہے اسکے لئے دن یا مہینہ کی کوئی تحقیق نہیں آدمی جب چاہے انکی فاتحہ دلا سکتا ہے ((بحوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد 01 صفحہ نمبر 292)) نوٹ لہذا اپنی عورتوں کو تالاب یا ندی کے کنارے یہ سب نہ کرنے دیں کیونکہ یہ سب جہالت ہے اور جو ایسا کرتی ہیں انھیں چاہیئے کہ سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ سے ایسا نہ کرنے کا عہد لیں فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے