جس امام کی بیوی بے پردہ رہے اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس امام کی بیوی بے پردہ غیر محرموں کے سامنے آتی ہو اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے المستفتی محمد رضوان خان

       جواب

اگر امام صاحب کی اہلیہ محترمہ اتنے باریک کپڑے وغیرہ پہنتی ہیں اور اسی طرح سے لوگوں کے سامنے آتی جاتی ہے اور امام صاحب ان سب باتوں سے مطلع بھی ہیں لیکن منع نہیں کرتے تو ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اگر امام منع نہیں کرتا ہے تو وہ دیوث ہے جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ اسی طرح ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ عورت اگر باہر بے پردہ باریك کپڑوں میں پھرتی ہو کہ ان سے بدن چمکے یا گلے یا بازو یا پیٹ یا پنڈلیوں یا سر کے بالوں کا کوئی حصہ کھولے پھرتی ہے اور شوہر مطلع ہے اور شوہر باوصف قدرت منع نہیں کرتا تو دیوّث ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ورنہ نہیں فتاویٰ رضویہ مترجم جلد 06 صفحہ 500/ 501 رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے