امام باڑہ کو ماننا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں اکثر دیہات میں امام باڑہ بنایا ہوا ہوتا ہے تو اس کو ماننا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا سائل محمد معراج القادری مہاراشٹر

       جواب

صورت مذکورہ میں امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی روضہ بناکر اسے سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ حضرت امام کے روضہ مبارکہ کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے صاحب عقل بخوبی یہ جانتا ہے کہ فرضی روضہ ہرگز ہرگز حضرت امام کا روضہ نہیں نہ ہی وہ کربلا نہ ہی وہ امام کی بارگاہ یا آرامگاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ امام کا سا برتاؤ کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے اسلام فرضی و مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا عوام کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے حضرت امام کا روضہ سمجھکر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اس طرح کے دوسرے امور انجام دینے والے گنہگار ہیں- لیکن جب جاہلوں کے دلوں میں اس فرضی کربلا اور فرضی روضہ کی عظمت پہلے ہی سے رچی بسی ہوئی ہے تو انہیں نرمی کے ساتھ سمجھانا چاہیے اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر حکمت کے ساتھ کرنیکا حکم ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ادع الی ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ یعنی اپنے رب کے راہ کی طرف بلاو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اس سورت كى تفسير ميں جانا وقت اجازت نہی ديتا اور اتنے پر كفايت كرتا هوں

سورہ نحل -16/آیت 125 فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ 374
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ الفقیر محمد ثمیررضاعلیمی عفی عنہ

مقام بسنت تھانہ اورائی ضلع مظفر پور بہار الہند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے