9.12.2021

قبروں پر تیزے والے دن پانی ڈالنا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ قبروں پر تیزے والے دن قبر پر پانی ڈالنا کیسا ہے المستفی۔ عبدالواجد برا خاص ملک رام پور

       جواب

بعد تدفین قبر پر پانی ڈالنا مسنون ہے اور قبر پر اگر کوئ پودا لگا رکھا ہے تو اس کو ترو تازہ رکھنے کے لیے پانی ڈالنا جائز ہے اور اگر قبر کی مٹی بکھر گئ ہو اور نئ مٹی ڈالی گئی یا بکھرنے کا احتمال ہو تو پانی ڈالنا جائز ہے کہ نشان باقی رہے
سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرور زمان سے اس کی خاک منتشر ہوگئی ہو اور نئ ڈالی گئی یا منتشر ہو جانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشان باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے بہ علل فی الدر وغیرہ ان لا یذھب الاثر فیمتہن در مختار وغیرہ میں یہی علت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ اس کے لیے کوئی دن معین نہیں ہو سکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں

فتاویٰ رضویہ جلد نہم صفحہ ٣٧٣
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ : محمد عمران قادری تنویری غفرلہ

بروز ہفتہ 11/10/2021

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only