خانقاہوں پر دھول تاشہ بجوانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین کہ کافی جگہ دیکھا جاتا ہے کہ مزار پہ خانقاہی پروگرام میں ڈھول تاشہ بجایا جاتا ہے ایسا کرنا شرعا کیسا ہے جواب عنایت فرماۓ الساٸل ندیم رضا خیر پور

       جواب

صورت مسٶلہ میں پروگرام خواہ کوٸ بھی ہو کہیں بھی ہو ڈھول باجا بجانا ہرگز جاٸز نہیں
جیسا کہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ باجا بجانا ناجاٸز و حرام و بدعت سیٸہ ہے (فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ نمبر ٥١٨) صاحب بہار شریعت
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ بیہقی نے ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ’’ ﷲ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشہ والی چیز حرام ہے

(بہار شریعت حصہ۱۶ صفحہ۵۱۲)
لھذا ڈھول بجانا حرام و ناجاٸز ہے وہ کسی خانقاہ میں ہو یا کسی پروگام میں اور ڈھول تاشہ بجانے کو جاٸز سمجھنے والا جاہل گنوار ہے ایسا ہی (فتاوی فیض الرسول جلد ٢ صفحہ نمبر ٥٠٩) پر ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ الفقیر قادری و چشتی .. محمد نفیس رضا قادری رضوی

دربھنگہ بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے