9.28.2021

کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو دوبارہ سے زندگی ملی تھی

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ مشہور ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو لے کر حضرت جابر کے مکان پر پہنچے، حالانکہ کھانا بہت کم تھا کیونکہ دعوت فقط حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کی برکت سے وہ قلیل کھانا تمام صحابہ کو کافی ہوا، اور پھر بھی جوں کا توں باقی رہا، لیکن اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت جابر کے دو لڑکے تھے اور ان میں سے بڑے نے چھوٹے سے کہا کہ میں تجھے دکھاتا ہوں کہ بکری کو ابو نے کس طرح ذبح کیا ہے اور اس نے چھوٹے بھائی کو ذبح کردیا یہ منظر دیکھ کر حضرت جابر کی اہلیہ اس کی طرف دوڑیں تو بڑا بیٹا گھبرا کر جیسے ہی بھاگا چھت سے گر کر فوت ہو گیا، الغرض! حضرت جابر کی اہلیہ نے یہ بات کسی کو ظاہر نہ کی اور دعوت و کھانے کا انتظام کرتی رہیں اور دونوں مرحوم بچوں کو چادر سے چھپا دیا، مختصر یہ کہ یہ دونوں فوت شدہ بچوں کو حضور کے سامنے لایا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست کرم ان بچوں کے جسم پر پھیرا تو دونوں بچے زندہ ہو گئے، اس واقعہ کے دوسرے حصہ یعنی بچوں کو زندہ کرنے میں کتنی صداقت ہے کسی مستند کتاب کے حوالے سے سے تفصیلی جواب عنایت فرمائیں المستفتی۔ عبد الغفور، مدھوبنی، بہار

       جواب

محقق علی الاطلاق عارف باللہ شیخ عبد الحق محدث دھلوی اور عاشق رسول علامہ عبد الرحمن جامی رضی اللہ اللہ عنہما نے مذکورہ واقعہ اپنی کتاب میں درج کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ واقعہ کلیة مستند و معتبر ہے تاجدار کاٸنات صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بے شمار معجزات میں سے ایک معجزہ ہے التبہ اسمیں اتنا درج ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان بچوں کی لاشوں کے پاس تشریف لاۓ اور انکے پاس کھڑے ہوکر دعا کی فورا وہ دونوں بچے زندہ ہو گۓ (مندرجہ ذیل کتب میں ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں ) (مدارج النبوة المجلد الاول الصفحة 260 مطبوعہ ادبی دنیا دھلی شواھد النبوة الصفحة 142 مطبوعہ اسلامک پبلشر دھلی اختیارات مختار دوعالم الصفحة 91 مطبوعہ جیلانی بکڈپو دھلی ) مذکورہ واقعہ کی تفصيلات کے لۓ ہماری کتاب اختیارات مختار دوعالم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا مطالعہ کجیۓ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ مٶرخہ 17 صفر 1443ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only