نکاح کا روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ نکاح کا روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی المستفتی محمد شاکر رضوی جہان آباد یوپی

       جواب

نکاح خوانی میں جو روپیہ ملتا ہے اس کا مالک نکاح پڑھانے والا ہوتا ہے۔ نکاح پڑھانے والا اگر اپنی خوشی سے مسجد میں دے تو یہ لگانا بالکل جائز ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا" اگر اُجرت نکاح اپنے مصر ف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں۔تو جوابا ارشاد فرماتے ہیں: " جائز ہے جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے (فتاوی رضویہ شریف ج ۱۱ ص ۲۵۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاویٰ بریلی شریف صفحہ ۲۸۷ پر ہے : اگر متولی اہل بستی انتظامیہ نے پہلے سے طے کر لیا ہے کہ نکاح کے نذرانے میں اتنا روپیہ مسجد وغیرہ کو دینا پڑے گا تو ان کو نذرانہ سے لینا جائز ہوگا اور اگر پہلے طے نہ کیا اور بعد میں نذرانہ سے لیں اور امام صاحب نہ دیں تو زبردستی کریں یہ جائز نہیں اگر وہ لوگ ایسا کرتے ہیں تو ضرور گنہگار ہیں توبہ کریں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

۰۵ صفر المظفر ۱۴۴۳ ہجری،، ۱۱ ستمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز ہفتہ

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0