9.14.2021

نکاح کا روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ نکاح کا روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی المستفتی محمد شاکر رضوی جہان آباد یوپی

       جواب

نکاح خوانی میں جو روپیہ ملتا ہے اس کا مالک نکاح پڑھانے والا ہوتا ہے۔ نکاح پڑھانے والا اگر اپنی خوشی سے مسجد میں دے تو یہ لگانا بالکل جائز ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا" اگر اُجرت نکاح اپنے مصر ف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں۔تو جوابا ارشاد فرماتے ہیں: " جائز ہے جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے (فتاوی رضویہ شریف ج ۱۱ ص ۲۵۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاویٰ بریلی شریف صفحہ ۲۸۷ پر ہے : اگر متولی اہل بستی انتظامیہ نے پہلے سے طے کر لیا ہے کہ نکاح کے نذرانے میں اتنا روپیہ مسجد وغیرہ کو دینا پڑے گا تو ان کو نذرانہ سے لینا جائز ہوگا اور اگر پہلے طے نہ کیا اور بعد میں نذرانہ سے لیں اور امام صاحب نہ دیں تو زبردستی کریں یہ جائز نہیں اگر وہ لوگ ایسا کرتے ہیں تو ضرور گنہگار ہیں توبہ کریں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

۰۵ صفر المظفر ۱۴۴۳ ہجری،، ۱۱ ستمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only