9.07.2021

چھ ماہ میں بچہ ہوا تو ثابت النسب ہے یا نہیں

محمد شفیق
Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ اور زید دونوں کے کچھ سالوں سے ناجائز تعلقات تھے اب ہندہ کی شادی بکر سے ہوگی ہے شادی کے ابھی چار یا پانچ مہینے ہوئے ہیں اور حمل ٹھہرا ہے ہندہ کے ڈاکٹر سے چیکپ کرویا ہے تو ڈاکٹر نے کہا کہ ایک ہی مہینے باقی ہے بچے کی پیدائش ہونے میں تو طلب امر یہ بچہ کس کا بکر کا ہوگا یا پھر دوسرے کا قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمایں سائل محمد انور خان رضوی علیمی پتہ شراوستی یوپی

       جواب

پہلی بات تو آپ یہ ذہین نشی کر لیجئے کہ اگر چھ ماہ کے بعد ولادت ہوئی تو وہ ثابت النسب ہوگا اگر اِس سے کم کی مدت رہی تو نہیں کیونکہ حمل کی مدت کم ازکم چھ مہینہ ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سال ہے جیساکہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ کسی عورت سے زنا کیا پھر اس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ میرا بیٹا ہے

(بہار شریعت جلد دوم حصه ہشتم 8 صفحه 251 مطبوعہ مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)
لہٰذا سوال سے بالکل واضح طور پر عیاں ہے کہ بچہ پانچ ماہ کا ہے اور پیدائش چھ ماہ میں یا پھر اس سے زائد میں ہوگی تو وہ بچہ ثابت النسب ہی مانا جائے یعنی کہ وہ بچہ بکر کا ہی مانا جائے گا فقط والسلام واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only