تعدیل ارکان نماز کے اندر فرض ہے یا واجب

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علمائے کرام ومفتیان کرام سے مسئلہ ذیل کے بارے میں سوال عرض ہے کہ تعدیل ارکان کیا ہے اور تعدیل ارکان نماز کے اندر فرض ہے یا واجب ہے مدلل و مفصل قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں المستفتیہ ۔۔۔ عتیق النساء رضویہ قادریہ اسمعیلی پتہ شراوستی یوپی

       جواب

رکوع میں ایک تسبیح یعنی ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا اسی طرح سجدے میں اور قومہ ، یعنی رکوع سے قیام میں چلاجاۓ تب ایک تسبیح کے مقدار ٹھہرنا اور جلسہ ، یعنی دوسجدوں کے درمیان بیٹھےتب بھی ایک تسبیح کے مقدار ٹھہرنا ، یہ سب تعدیل ارکان کہلاتے ہیں اور یہ سب واجبات نماز میں سے ہیں سہوا ان کے ترک پر سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے، اور اگر کسی نے جان بوجھ کر ترک کیا تو سجدۂ سہو سے کام نہیں چلے گا اعادہ واجب ہے
فتاویٰ ھندیہ میں ہے وامالاعتدال فی الرکوع و السجود و کل رکن ھو اصل بنفسہ ذکر الکرخی أنہ واجب علی قولھما ھکذا فی الظھیریة و ھو الصحیح کذافی شرح المنیة لابن أمیرالحاج و تعدیل الارکان ھو تسکین الجوارح حتیٰ تطمٸن مفاصلة و أدناہ قدر تسبیحة کذا فی العینی شرح الکنز و النھر الغاٸق المجلدالاوّل کتاب الصلاۃ ص ٧٩ (دارلکتب العلمیة بیروت لبنان) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے