بانجھ لڑکی سے نکاح کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ بانجھ لڑکی سے نکاح کرنا کیسا نیز کیا اس سے نکاح کرنا ثواب کا کام ہے مجھے امید قوی ہے کہ علماء کرام اسکا تصلی بخش جواب عنایت فرمائیں گے فقط والسلام المستفی محمد شاکر رضا رضوی جہان آباد ضلع فتح پور الھند

       جواب

بانجھ عورت سے نکاح کرنا بالکل جاٸز ہے شرعا کوٸی مضاٸقہ نہیں بلکہ کوٸی شخص جانتا ہو فلاں عورت بانجھ ہے وہ بےسہارا ہےجیسا کہ اس دور میں خدا نہ کرے کوئی بانجھ ہو تو اس کا کا نکاح نہیں ہوتا ہے وہ گھر پہ ہی بیٹھ جاتی ہے ہے یہاں تک کہ اسکو کافی طعن و تشنیع و مصاٸب و آلام جھیلنا پڑھتے ہیں ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی نیک مرد ایسی عورت سے نکاح کرے تاکہ اس کا گھر بس جائے اور اس کی زندگی سنبھل جائے تو یہ بہت ہی بڑا کارخیر بلکہ جہاد اکبر ہے جیساکہ اللہ کے مخصوص بندوں کی شان رہی ہے کہ وہ ایسے کو سہارا دیتے جنہیں کوئی سہارا نہیں دیتا وہ ایسوں کو گلے لگاتے جن کو کوئی گلے نہیں لگاتا ہو لہذا بانجھ عورت سے نکاح کرسکتا ہے لیکن ایسے شخص کو چاہیے کہ ایک شادی اور کرلے تاکہ حصول اولاد بھی ہوجاۓ کیونکہ شادی کا مقصد صرف نفسانی خواہشات کو پورا کرنا نہیں بلکہ اولاد پانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے
قرآن شریف میں ہے فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں ،دو دو اور تین تین اور چار چار

(القرآن)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے