جن خانقاہوں پر ویڈیو بنتے ہیں وہاں مرید ہونا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کچھہ درگاہوں پر جہاں سادات کرام سجادہ نشیں ہیں لیکن قوالی بھی سنتے ہیں مزامیر کے ساتھ اور فوٹو ویڈیو بھی بنواتے ہیں تو ایسی جگہوں پر مرید ہونا کیسا ہے شرعاً درست ہے یا نہیں ہم یہ دیکھیں کہ آل رسول ہیں یہاں مرید ہو جانا چاہیے یا پھر یہ دیکھیں کہ قوالی اور فوٹو ویڈیو جو شرعاً حرام ہے اس کو دیکھتے ہوئے وہاں مرید نہ ہوں کیا حکم شرع ہے رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا فی الدارین المستفی محمد عثمان علی قادری رضوی۔۔۔بلرام پور یوپی

       جواب

سادات ہوں یا غیرسادات احکام شرع سب پر لاگو ہوتے ہیں لہذا ایسے سادات جو ڈھول ڈھماکےو مزامیر کے ساتھ قوالیاں و فوٹوگرافیاں کراتے تو ہرگز ان مرید نہ ہوا جاۓ کیوں کہ پیر کے شراٸط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ فاسق معلن نہ ہو فوٹو گرافی و سیلفی و ڈھول باجےکےساتھ قوالیاں جیساکہ راٸج ہیں یہ سب ناجاٸز کام ہیں اور یہ امور قبیحہ اپنانے والا و جاٸز سمجھنے والا فاسق معلن ہے لہذا فاسق سے مرید ہونا کیسے درست ہوسکتا ہے
حدیث شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ یعنی ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہونےوالے ہیں جو زنا ریشمی کپڑوں شراب باجوں تاشوں کو جائز ٹہرائیں گے صحیح البخاری ، المجلدالثانی ، کتاب الاشربة ، ص٨٣٧ (مجلس برکات مبارکپور)
اور فتاویٰ ھندیہ میں ہے السَّمَاعُ وَالْقَوْلُ وَالرَّقْصُ الَّذِي يَفْعَلُهُ الْمُتَصَوِّفَةُ فِي زَمَانِنَا حَرَامٌ لَا يَجُوزُ الْقَصْدُ إلَيْهِ وَالْجُلُوسُ عَلَيْهِ وَهُوَ وَالْغِنَاءُ وَالْمَزَامِيرُ سَوَاءٌ وَجَوَّزَهُ أَهْلُ التَّصَوُّفِ وَاحْتَجُّوا بِفِعْلِ الْمَشَايِخِ مِنْ قَبْلِهِمْ قَالَ وَعِنْدِي أَنَّ مَا يَفْعَلُونَهُ غَيْرُ مَا يَفْعَلُهُ هَؤُلَاءِ فَإِنَّ فِي زَمَانِهِمْ رُبَّمَا يُنْشِدُ وَاحِدٌ شِعْرًا فِيهِ مَعْنًى يُوَافِقُ أَحْوَالَهُمْ فَيُوَافِقُهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ رَقِيقٌ إذَا سَمِعَ كَلِمَةً تُوَافِقُهُ عَلَى أَمْرٍ هُوَ فِيهِ رُبَّمَا يُغْشَى عَلَى عَقْلِهِ فَيَقُومُ مِنْ غَيْرِ اخْتِيَارٍ وَتَخْرُجُ حَرَكَاتٌ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ اخْتِيَارِهِ وَذَلِكَ مِمَّا لَا يُسْتَبْعَدُ أَنْ يَكُونَ جَائِزًا مِمَّا لَا يُؤْخَذُ بِهِ وَلَا يُظَنُّ فِي الْمَشَايِخِ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مِثْلَ مَا يَفْعَلُ أَهْلُ زَمَانِنَا مِنْ أَهْلِ الْفِسْقِ وَاَلَّذِينَ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِأَحْكَامِ الشَّرْعِ وَإِنَّمَا يَتَمَسَّكُ بِأَفْعَالِ أَهْلِ الدِّينِ كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْفَتَاوَى گانا و قوالی و رقص جو ہمارے زمانے کے صوفی لوگ کرتے ہیں حرام ہے اور اس کی طرف قصد کر کے جانا وہاں بیٹھنا بھی ناجائز ہے اور غنإ اور مزامیز قوالی سب یکساں ہے (نام نہاد)اھل تصوف اسکو جائز کہتے ہیں اور اگلے مشائخ کے فعل کو حجت لاتے ہیں پھر شیخ رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میرے نزدیک حق بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگلے مشاٸخ نے ایسا نہیں کیا جیسا یہ لوگ کرتے ہیں چنانچہ ان کے زمانے میں بسا اوقات کسی شخص نے کوٸی شعر پڑھا جو ان کے حال کے موافق پڑا یعنی عشق حقیقی سے پر اور اس نے دل کو نرم کر دیا اور جس کا قلب رقیق ہوتا ہے تو جب ہے جو سنتا ہے جو اس کی حالت کے موافق پڑتا ہے تو اکثر اس کی عقل پر غشی طاری ہوجاتی ہے اور بے اختیار کھڑے ہوجاتا ہے اور اس کی حرکات بے اختیار صادر ہوتی ہیں اور ایسی بات کچھ بدی معنی روانہ ہو اور اس پر مواخذہ نہ کیاجاۓ اور اگلے مشاٸخ کی نسبت یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ ایسے فعل کرتے تھے جیسے اِس زمانے کے فاسق لوگ تو بری باتوں کو مباح کرتے ہیں اور جن کو احکام شرعی کا علم نہیں جاہل ہیں کرتے ہیں اور طرہ یہ ہے کہ دیندار و پرہیزگار لوگوں کےافعال سے تمسک کرتے ہیں

المجلدالخامس ، کتاب الکراھیة ، ص٤٣١ (بیروت لبنان)
رہا مسٸلہ فوٹوگرافی کا تو یہ بات بھی اظھر من الشمس ہے کہ ویڈیو و سیلفی وغیرہ سب ناجاٸز و حرام ہے دور حاضر میں کچھ علمإ کرام نے وقت ضرورت فوٹو وغیرہ کی اجازت دے دی تھی مگر یہ کونسا اسلامی طریقہ ہے کہ کھانے کھاتے وقت ویڈیو مصافحہ کرتے وقت .. کسی سے ملاقات کرتے وقت ... کسی کو کچھ عطا کرتے وقت ۔۔ فلاٸٹ میں چڑھتے و اترتے وقت ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ فوٹو و ویڈیو بڑے شوق سے بنواتے و کچھواتے ہیں یہ سراسر اسلام کے ساتھ مزاق ہے اللہ ایسے لوگوں کو توفیق دے
حدیث شریف میں ہے عن عبد الله قال:‏‏ سمعت النبی صلى الله عليه وسلم إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا الصحیح البخاری ، المجلدالثانی ، کتاب اللباس ، ص٨٨٠ (مجلس برکات) خلاصہ یہی ہے کہ جو پیر خواہ سید و غیر سید مذکورہ امور و افعال میں ملوث ہو وہ ہرگز ہرگز شرعی پیر نہیں ہوسکتے لہذا ایسوں سے قطعا بیعت نہ ہواجاۓ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے