مسجد میں مزارات کی تصویر لگانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مسجد کے اندر کی دیواروں میں سرکار اعلی حضرت و خواجہ غریب نواز اور دیگر اولیاء کرام و نبیائے کرام وغیرہ کے مزارات کی تصاویر یعنی (پوسٹر) لگانا کیسا ؟ حوالہ کے ساتھ المستفی جواب کے قاصر. آپ کے گروپ نمبر 3 کا ممبر محمد مختار عالم نوری امام نوری جامع مسجد اتردیناجپور ویسٹ بنگال

       جواب

حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے روضہ اقدس یا نعل پاک سرکار اعلی حضرت و خواجہ غریب نواز اور دیگر اولیاء کرام و انبیائے کرام وغیرہ کے مزارات کی تصویر اور نقش بنانا جائز ہے۔اور اسے مسجد کے اندر کی دیواروں میں لگانا بھی جائز ہے۔ اور اس نقش پاک وغیرہ کو دیکھنے کے بعد مومن کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی قصری مطالع کے حوالے سے فرماتے ہیں اعقب المؤلف رحمہﷲ تعالٰی ورضی عنہ، ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ موافقا وتابعاللشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتاب الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذٰلک ان یزور المثال من لم یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاہدہ مشتاق ویلثمہ ویزداد فیہ حباوشوقا مؤلف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فصل اسماء طیبہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد صفت روضہ مبارکہ کی فصل بہ تبعیت وموافقت امام تاج الدین فاکہانی ذکر فرمائی کہ انھوں نے بھی اپنی کتاب فجر منیر میں خاص ایک باب ذکر کیا اور اس میں بہت فائدے ہیں از انجملہ یہ کہ جسے روضہ مبارکہ کی زیارت میسرنہ ہوئی وہ اس نقشہ پاک کی زیارت کرے مشتاق اسے دیکھے اور بوسہ دے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت اور حضور کا شوق اس کے دل میں بڑھے اللھم ارزقنا اٰمین (اے اللہ! ہمیں بھی یہ نصیب فرما اور ہماری یہ درخواست قبول فرمایا اسی میں ہے قد کنت رأیت تالیفا لبعض المشارقۃ یقول فیما انہ ینبغی لذاکر (اسم) الجلالۃ من المریدین ان یکتبہ بالذہب فی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ فاذا صور قاری ہذا الکتاب الروضۃ صورۃ حسنۃ بالوان حسنۃ و خصوصا بالذہب فہو من معنی ذٰلک میں نے بعض علماء مشرق کی تالیف میں دیکھا کہ جو مرید اسم پاک اللہ کا ذکر کرے اسے چاہئے کہ نام پاک اللہ ایک ورق میں سونے سے لکھ کر اپنے پیش نظر رکھے تو جب اس کتاب کو پڑھنے والا روضہ مقدسہ کی خوبصورت تصویر خوشنما رنگوں سے رنگین خصوصا آب زر سے بنائے تو وہ اسی قبیل سے ہے اسی میں ہے وقد ذکر بعض من تکلم علی الاذکار و کیفیتۃ التربیۃ بہا انہ اذا کمل لا الہ الا ﷲ بمحمد رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیشخص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور فی ثیاب من نور یعنی لتنطبع صورتہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی روحانیتہ و یتألف معہا تألفا یتمکن بہ من الاستفادۃ من اسرارہ والا قتباس من انوارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فان لم یزرق تشخص صورتہ فیری کانہ جالس عند قبرہ المبارک یشیر الیہ متی ماذکرہ فان القلب متی ماشغلہ شیئ امتنع من قبول غیرہ فی الوقت الی اٰخر کلامہ فیحتاج الی تصویر الروضۃ المشرفۃ والقبور المقدسۃ لیعرف صورتہا و یشخصھا بین عینیہ من لم یعرف من المصلین علیہ فی ہذا الکتاب وہم عامۃ الناس وجمہور ہم بعض اولیاء کرام جنھوں نے ذکر وشغل سے تربیت مریدین کی کیفیت ارشاد کی بیان فرماتے ہیں کہ جب ذکر لا الہ الا اﷲ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کامل کرلے توچاہئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تصور اپنے پش نظر جمائے بشری صورت نور کی طلعت نورکے لباس میں تاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ ا س کے آئینہ دل میں جم جائے اور اس سے وہ الفت پیدا ہو جس کے سبب حضور کے اسرار سے فائدہ لے حضور کے انوار کے پھول چنے اور جسے یہ تصور میسر نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مزار مبارک کے سامنے حاضر ہے اور ہر بار جب ذکر میں نام پاک آئے تصور میں مزار اقدس کی طرف اشارہ کرتا جائے کہ دل جب ایک چیز سے مشغول ہوجاتاہے پھر اس وقت دوسری چیز قبول نہیں کرتا، تو اب روضہ مطہرہ وقبور مطہرہ کی تصویر بنانے کی حاجت ہوئی کہ جن دلائل الخیرات پڑھنے والوں نے ان کی زیارت نہ کی اور اکثر ایسے ہی ہیں وہ انھیں پہچان لیں اور ذکر کے وقت ان کا تصور ذہن میں جمائیں۔ نقشہ روضہ مبارک کے لکھنے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نقشہ نعل مقدس منافع وخواص میں بالیقین اس کا قائم مقام ہے جس پر صحیح تجربہ شاہد عدل ہے ولہذا علمائے دین نے نقشے کا اعزاز واعظام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں (فتاوی رضویہ شریف ج ۲۱ ص ۴۴۷ تا ۴۴۹ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

حوالہ
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

۱۷ ربیع النور شریف ۱۴۴۳ ہجری بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے