10.29.2021

کافر کی رقم جشن عید میلاد النبی پر خرچ کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسٔلہ میں کہ اگر کوئی کافر جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس کے لیے بخوشی کچھ رقم دے تو اس کا قبول کرنا عند الشرع جائز ہے یا نہیں ؟احادیث واقوال فقہاء کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں المستفی محمد حسن رضا جون پور

       جواب

لےسکتے ہیں کوٸی حرج نہیں بشرطیکہ طلب نہ کیاجاۓ کیوں کہ کسی بھی غیرمسلم سے چندہ مانگناجاٸز نہیں اگر وہ بخوشی دےتو لے سکتے ہیں لیکن اس غیر مسلم کی طرف سے یہ کامل یقین ہو کہ یہ شخص کبھی بھی طعن و تشنیع نہیں کرے گا یا کوئی بھی ایسی حرکت قبیح نہیں کرے گا جو مسلمان کے لیے باعث ذلت بنے کیوں کہ دور حاضر میں بہت سارے غیر مسلم الیکشن وغیرہ میں جیتنے کی خاطر اس طرح کی امداد کرتے ہیں اب اگر کسی مقصد کے تحت غیر مسلم نے کچھ پیسہ دیا مسلمانوں نے قبول کیا وہ ہار گیا یا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تو ممکن ہے طعن و تشنیع کرے گا تو ایسی صورت میں بھی اس کا پیسہ نہ لیا جائے
حدیث شریف میں ہے عن حذیفةرضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا ینبغي للمؤمن أن یذل نفسہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرے یا کروائے جامع الترمذي ، المجلدالثانی ، ابواب الفتن ، ص٥٠ مجلس برکات مبارکپور)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only