نئے مکان کی بنیاد میں سونا چاندی کی تری دینا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  حضرت. میرا یہ سوال ہے کہ. کیا نیا مکان بنانے کے وقت. تری میں سونا چاندی دینا از روئے شرع کیسا ہے المستفی محمد حسنین شہبازی بھاگلپوری

       جواب

مکان وغیرہ بناتے وقت اس میں سونا چاندی وغیرہ لگانا ممنوع ہے۔کہ یہ سب جہالت ہے اور عوام وغیرہ میں جو مشہور ہے کہ جب مکان بنایا جائے تو اس میں سونا یا چاندی دیا جائے یہ غلط ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ فضول خرچی بھی ہے اور فضول مال خرچ کرنا حرام ہے۔۔لہذا مسلمانوں کو ایسے کاموں سے اجتناب بحد ضروری ہے۔ تاکہ جہالت دور ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فضول خرچوں کو قراٰنِ پاک میں شیطانوں کا بھائی قراردیا ہے۔چنانچہ پارہ سُوْرَۃُ بَنِیْ اِسْرَآءِیْل کی آیت نمبر26 اور27 میں ارشاد ہوتا ہے وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷) ترجَمۂ کنزالایمان: اور فُضُول نہ اُڑابے شک اُڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے ربّ کا بڑاناشکرا ہے حوالہ مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ ’’ تفسیرِ صِراطُ الْجِنان ‘‘ جلد5صفحہ447تا448 پراِن آیاتِ مبارک کے تحت ہے عربی عبارت { وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اور فضول خرچی نہ کرو۔} یعنی اپنا مال ناجا ئز کام میں خرچ نہ کرو ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ’’ تبذ یر ‘‘ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جہاں مال خرچ کرنے کاحق ہے ا س کی بجا ئے کہیں اور خرچ کرنا تبذیر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنا پورا مال حق یعنی اس کے مصرف میں خرچ کر دے تو وہ فضول خرچی کرنے والا نہیں اور اگر کوئی ایک دِرہم بھی باطل یعنی ناجا ئز کام میں خرچ کردے تو وہ فضول خرچی کرنے والا ہے

(خازن ج ۳ص۱۷۲)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

مقام نیپال الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے