رسی منی آئے نبی آئے ایسا شعر پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فر ماتے ہیں علما ء کرام ومفتیان عظام اس شعر میں کہ نبی آئے بہت آئے رِشِی آئےمُنِی آئے لیکں محمد کی طرح نہیں کو ئی نبی آئے اس شعر میں رِشی اور مُنِی سے کو ن مرا د ہے اور کیا یہ شعر پڑھنا درست ہے یہ بارہ ربیع الا ول شریف کو پڑھا جا تا ہے وضا حت کے ساتھ مکمل جواب عنا یت فر ما ئیں مہر بانی ہو گی المستفی محمد فریاد علی بہادرپور

       جواب

شاعر نے اس شعر میں رِشِی و مُنِی سے بزرگان دین کو مراد لیا ہے رشی و منی کے معانی ہوتے ہیں ، عابد و زاہد و خداپرست ، وغیرہ (فیروزاللغات) مگر یہ الفاظ برزگان دین لیۓ بولنا قطعا درست نہیں گرچہ ان کے معانی درست ہیں کہ جب یہ الفاظ یا ان جیسے بولے جائیں گے تو اذہان مذاہب باطلہ کی طرف منتقل ہوں گے کیوں کہ یہ ہندٶں میں راٸج ہیں یعنی اس قسم کے الفاظ ہندو اپنے باطل خداٶں کے لیۓ استعمال کرتے ہیں اور ایک ضروری بات یہ بھی کوئی شخص کسی محفل میں اگر اس طریقے کے جملوں کو استعمال کرے تو عوام میں کچھ لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ھندو کے جھوٹے خدا بھی لاٸق تعظیم ہیں ممکن ہے ایسے ان پڑھ مسلمانوں کے لئے گمراہیت کے در کھل جاٸیں
جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالی کو ایشور ، پربھو ، پرماتما ، پرمیشور ، اور گاڈ کہنا کیسا ہے ؟ تو جواب میں
شارح بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ اللہ کو کہنے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہاں ایک خاص بات یہ ہے کہ ایشور پرماتما وغیر خدا کو کہنا ہندوؤں کا عرف ہے اور گاڈ کہنا انگریزوں کا اگر کوئی اجنبی آدمی کسی کے سامنے یہ کہے کہ ایشور چاہے تو یہ ہوگا اسی طرح اگر کوئی کہے کہ گاڈ چاہےتو یہ ہو گا تو سامع بولنے والے کو ہندو عیساٸی سمجھےگا لہذا مسلمان اس قسم کے الفاظ بولنے سے احتراز کریں جلداول ، کتاب العقاٸد ، ص١٧٣ (داٸرالبرکات گھوسی)

حوالہ
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے