فاتحہ میں گھی کا چراغ جلانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علمائے کرام و مفتیان عظام کے بارگاہ میں عرض ہے کہ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ولادت کے دن اور 11شریف کے وقت بہت سے لوگ اپنے اپنے گھروں میں چراغ دیا جلاتے ہیں فاتحہ کے وقت میں بھی چراغ دیا جلاتے ہیں تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا پھر غلط برائے کرام اسکا جواب دلیل کے سات دیں نوازش ہوگی المستفی محمد رضا خان

       جواب

فاتحہ خوانی میں چراغ وغیرہ جلانا فضول ہے اور فضول خرچی حرام ہے جیسا سیدی سرکار اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں کہ فاتحہ کے وقت گھی کا چراغ جلانافضول ہے (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد 09 صفحہ نمبر 616 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ بلاضرورت گھی جلانا اسراف ہےاور اسراف حرام ہے۔ اور فاتحہ وقرآن خوانی اور درود خوانی کے لئے اگر چراغ کے قربکی حاجت ہو اور اس خیا ل سے کہ تیل میں کھبی بد بوُ آتی ہے گھی سے چراغ روشن کرےاور اس لحاظ سے کہ استعمال چراغ صاف نہیں ہوتا او رکورے میں جلائیں توگھی پئے گااور بےکار جائے گالہٰذا آٹے کا چراغ بنائیں کہ آٹے پئے توا س کی روٹی پك سکتی ہے،تواس میں حرج نہیں، مگریہ عادت کرلینی کہ بلا ضرورت بھی فاتحہ کے لیے گھی جلائیںوہی اسراف وحرام ہے ، اور وہ صورتِ جواز جو ہم نے لکھی اس میں بھی وہ چراغ کھانےکے اوپر نہ رکھا جائے بلکہ کھانے سے الگ (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد 09 صفحہ نمبر 616 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے