مزار کے دھون غسالہ کو پینا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مزار کے دھون (غسالہ) کو پینا جائز ہے یا نہیں جو کہ ماء مستعمل ہوتا ہے جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں المستفی محمد سلیم احمد ساکی ناکہ ممبئی مہاراشٹر

       جواب

مزار کا غسالہ پاک ہے اور اس کے پینے میں کوئی حرج نہیں مگر یہ کہ نجاست سے اختلاط نہ ہو ورنہ ناپاک ہوجاے گا۔ مزار کے غسل کا پانی مستعمل نہیں ہوتا کہ مستعمل ہونے کیلئے دو امروں ازالہ حدث یا استعمال فی البدن علی وجہ القربۃ سے ایک کا ہونا ضروری ہے اور مزار کے غسالہ میں ان میں سے کوئی بات نہیں پائی جا سکتی البنایہ فی شرح ہدایہ جلد اول صفحہ ۳۵۲ مطبوعہ دارالفکر میں ہے ﻭاﻟﻤﺎء اﻟﻤﺴﺘﻌﻤﻞ ﻫﻮ ﻣﺎء ﺃﺯﻳﻞ ﺑﻪ ﺣﺪﺙ ﺃﻭ اﺳﺘﻌﻤﻞ ﻓﻲ اﻟﺒﺪﻥ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ اﻟﻘﺮﺑﺔ"اھ
اور فتاوی رضویہ میں ہے کوئی پاک کپڑا وغیرہ دھویا۔ کسی جانور یا نابالغ بچّے کو نہلایا اور ان کے بدن پر نجاست نہ تھی اگرچہ وہ جانور غیر ماکول اللحم ہو جیسے بلّی یا چوہا حتی کہ مذہب راجح میں کُتّا بھی جبکہ پانی اُن کے لعاب سے جُدارہا اگرچہ نہلانا ان کے دفع مرض یا شدت گرما میں ٹھنڈ پہنچانے کو بہ نیت ثواب ہو مستعمل نہ ہوگا۔ اقول کپڑا برتن جانور اور ان کے امثال تو بدن انسان کی قید سے خارج ہوئے اور نابالغ کو نہلانا مثل وضوئے تعلیم خود قربت نہیں کہ بچّوں کے نہلانے کا کوئی خاص حکم شرع میں نہ آیا ہاں انہیں بلکہ ہر مسلمان وجاندار کو نفع وآرام پہنچانے کی ترغیب ہے یہ امور عادیہ اُس حکم کی نیت سے کلیہ محمودہ کے نیچے آکر قربت ہوسکتے ہیں مگر موجب استعمال وہی فعل ہے جو بذاتِ خود قربت ومطلوب شرع ہو جلد دوم صفحہ ٤٦ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور یہی حکم ہر پاک چیز کے دھوون کا ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

مقام ۱۱ ربیع الثانی ۳٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے