عورت کو ماں سمجھ کر مصافہ کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کو ماں سمجھ کر ان سے مصافہ کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہر بانی ہوگی المستفی محمد جمشید عالم جھارکھنڈ

       جواب

کسی اجنبیہ عورت کو ماں سمجھ کر مصافحہ کرنا ایسا ہی ہوا جیسے شراب کو پانی سمجھ کر پینا۔ ہاں اگر محارم میں سے ہے تو پھر مصافحہ کرنا جائز ہے کیونکہ محارم کے جن عضاء دیکھنا دیکھنا جائز ہے اسے چھونابھی جائز ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کو شہوت کا اندیشہ نہ ہو
بہار شریعت میں ہے جو عورت اس کے محارم میں ہو اس کے سر، سینہ، پنڈلی، بازو، کلائی، گردن، قدم کی طرف نظر کرسکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو محارم کے پیٹ، پیٹھ اور ران کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح کروٹ اور گھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی ناجائز ہے۔ کان اور گردن اور شانہ اور چہرہ کی طرف نظر کرنا جائز ہے محارم سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو (حوالہ بہار شریعت ج۳ ح۱۶ ص۴۴۴ تا ۴۴۵ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

24 ربیع الثانی 1443ھ بمطابق 30 نومبر 2021 عیسوی بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے