12.22.2021

بال کٹوانے کے بعد غسل کئے بغیر نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ سر کا بال کٹوا کر نہائے بغیر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ المستفی خوشدل رضا پرنوی)

       جواب

سرکے بال ترشوانے سے یا موئے زیر ناف یا بغل کے بال صاف کرنے سے نہ غسل فرض ہوتا ہے نہ وضو ضروری ہوتا ہے بشرطیکہ پہلے سے با وضو ہوں اور غسل کی حاجت نہ ہو تو سر کے بال ترشوانے یا موئے زیر ناف یا بغل کے بال وغیرہ تراشنے کے بعد بغیر غسل و وضو کئے نماز یا تلاوت قرآن وغیرہ پرھ سکتا ہے
جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے و اذا مسح الرأس ثم حلق الشعر لا تجب الاعادة و كذا اذا توضأ قص الاظفار ( عمدۃ الروایة على شرح وقایة ص ٢٧٦ دارالکتب العلمیة )
اور ایسا ہی نورالایضا ح میں ہے ولا یعاد المسح ولا الغسل علی موضع الشعر بعد حلقہ ولا الغسل بقص ظفرہ وشاربہ " اھ یعنی بال منڈانے کے بعد بال کی جگہ پر دوبارہ مسح یا غسل کا اعادہ واجب نہیں ہے اور ناخنوں اور مونچھوں کو کاٹنے کے بعد بھی دوبارہ دھونے کی حاجت نہیں ( نورالایضاح کتاب الطھارۃ فصل فی الوضوء ص ٢٢ (مکتبة العصرية بیروت) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ

۱۳ جمادی الاول ۱۴۴۳ ھجری بروز شنبہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

جـمـلہ وحـقـوق اسـلامـی مـعـلـوت کـے لـئـے مـحـفـوظ ہے اسـلامـی مـعلـومـات گــروپ 2023

Designed By MO SHAFEEQ RAZA

Whatsapp Button works on Mobile Device only