جس کا ختنہ نہیں ہوا کیا اسکے نام سے عقیقہ ہو سکتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کی بچے کا ختنہ نہیں ہوا ہے تو عقیقہ ہو جائے گا کہ نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا فقط والسلام المستفی محمد کمال اختر رضا قادری بہرائچ شریف

       جواب

بلاشبہ عقیقہ ہوجائے گا بلکہ عقیقہ ہی پہلے کروانا چاہیے۔ پھر ختنہ کیونکہ بچے کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی
ایسا ہی بہار شریعت حصہ ۱۵ عقیقہ کے بیان میں ہے البتہ عقیقہ بالغ ہونے کے بعد بھی کرسکتے ہیں جب کہ ختنہ بالغ ہونے کے بعد کروانے کی اجازت نہیں کہ ختنہ سنت مؤکدہ ہے اور ستر عورت فرض ہے لہذا بالغ کے لیے ختنہ ضروری نہیں (ایسا ہی فتاویٰ فیض الرسول جلد ۲ صفحہ ۵۷۶ میں ہے) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ

۱۳ جمادی الاول ۱۴۴۳ ھجری بروز شنبہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے