کیا جس کے فرض ادا نہ ہو اسکے نوافل بھی قبول نہیں ہوتے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس بارے میں کی جب ۔۔کوئی نفل قبول نہیں ہوتی جب تک فرض ادا نہ کر لیا جائے تو زیادہ تر لوگوں کا پہلے کو اور حال کا نماز روزہ قضا رہتا ہے پھر بھی لوگ خیرات اور تن من دھن سے ضرورتمند کی جو مدد کرتے ہیں اسکا کوئی اجر نہیں ملتا اور کیا قضا والے کا ایسا عمل بیکار جا رہا ہے المستفی محمود انصاری واسعپور دھنباد

       جواب

یہ بات صحیح ہے کہ جن کے فرائض پورے نہیں ان کے نوافل مقبول نہیں ہوتے کہ نوافل کی مقبولیت فرائض کی ادائیگی پر موقوف ہے لہذا جس نے نوافل ادا کیے اور فرائض ادا نہ کئے تو اس کے نوافل موقوف رہتے ہیں جب تک کے فرائض ادا نہ کرے
جیسا کہ سیدی اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملّت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ زکوۃ کے فضائل اور زکاۃ نہ دینے والوں کی سزا وارد احادیث و آیات پیش کر کے فرماتے ہیں غرض زکوۃ نہ دینے کی جانکاہ آفتیں وہ نہیں جن تاب آ سکے نہ دینے والے کو ہزار سال ان سخت عذابوں میں گرفتاری کی امید رکھنا چاہئے کہ ضعیف البنیان انسان کی کیا جان؛اگر پہاڑوں پر ڈالی جائیں سرمہ ہوکر خاک میں مل جائیں پھر اس بڑا احمق کون کہ اپنا مال چھوٹے سچے نام کی خیرات میں صرف کرے اور اللہ عزوجل کا فرض اور اس بادشاہ قہار کا وہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے؛ شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے نادان سمجھتا ہے کہ نیک کام کر رہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض دھوکے کی ٹٹی ہے؛ اس کے قبول کی امید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود ۔ اے عزیز !فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ ؛ قرض نہ دیجیے اور بالائی بے کار تحفے بھیجئے وہ قابل قبول ہوں گے؟ خصوصا اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہانوں جہانیاں سے بے نیاز؟ یوں یقین نہ آئے تو دنیا کے جھوٹے حاکموں ہی کو آزما لے؛ کوئی زمیندار مال گزاری تو بند کر کر لے اور تحفے میں ڈالیاں بھیجا کرے؛ دیکھو تو سرکاری مجرم ٹھہرتا ہے یا اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں۔ ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے؛ فرض کیجیے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری کا رس بندھا ہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وہ رس تو ہرگز نہ دیں مگر تحفے میں عام خربوزے بھیجیں؛ کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا ؟یا آتے ہوئے اس کی نادہندگی پر جو آزار انہیں پہنچ سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے باز آئے گا ؟ سبحان اللہ جب ایک کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملک الملوک احکم الحاکمین جل و علا کے قرض کا کیا پوچھنا؟ لاجرم محمد بن المبارک ابن آلصباح اپنے جزء املا اور عثمان بن ابی شیبہ اپنی سنن اور ابو نعیم حلیۃ الاولیاء اور ھناد؛ فوائد اور ابن جریر تہذیب الآثار میں عبدالرحمن سابط وزیدو زبید پسران حارث و مجاہد سے راوی لما حضر ابا بکر الموت دعا عمر فقال اتقان اللہ یا عمر واعلم ان لہ عملا بالنہار لا یقبلہ باللیل و عملا باللیل لا یقبلہ بالنہار و اعلم انہ لا یقبل نافلۃ حتی تؤدی الفریضۃ یعنی جب خلیفہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر فرمایا اے عمر اللہ سے ڈرنا اور جان لو کہ اللہ کے کچھ کام دن میں ہیں کہ انہیں رات میں کرو تو قبول نہیں فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تک فرض ادا نہ کر لیا جائے حضور پر نور سیدنا غوث اعظم مولاے اکرم حضرت شیخ محی الملت والدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب میں کیا کیا جگر فگار مثالیں ایسے شخص کے لئے ارشادفرمائی ہیں جو فرض چھوڑ کر نفل بجا لائے۔ فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لئے بلائے یہ وہاں تو حاضر نہ ہوا اور اس کے غلام کی خدمت گاری میں موجود رہے ۔ پھر حضرت امیر المومنین سیدنا مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں: ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچہ ہونے کے دن قریب آئے اسقاط ہو گیا اب وہ نہ حاملہ نہ بچہ والی یعنی جب پورے دنوں پر آکر اسقاط ہوا تو محنت تو پوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرا خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی اب نہ حمل نہ بچہ نہ امید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفلی خیرات دینے والے کے پاس سے روپیہ تو اٹھا مگر جب کہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہیں اسی کتاب مبارک میں
حضور مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ فان اشتغل بالسنن و النوافل قبل فرائض لم یقبل منہ و اھین
یوں ہی شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ نے اس کی شرح میں فرمایا ترک آنچہ لازم ضروری است و اہتمام آنچہ نہ ضروری است از فائدہ عقل و خرد و راست چہ دفع ضرر اہم ست بر عاقل از جلب نفع بلکہ بہ حقیقت نفع دریں صورت منتفی ست
حضرت شیخ الشیوخ امام الملۃ الدین سہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن والثلثین میں حضرت خواص رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں بلغنا ان اللہ لا یقبل اللہ نافلۃ حتی یؤدی فریضۃ؛ یقول اللہ تعالی مثلکم کمثل العبد السوء بدا بالھدایۃ قبل قضاء الدین ہمیں خبر پہنچی کہ اللہ عزوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ فرض ادا کیا جائے ؛اللہ تعالی ایسے لوگوں سے فرماتا ہے کہاوت تمہاری بد بندہ کی مانند ہے جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے خود حدیث میں ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اربع فرضھن اللہ تعالی فی الاسلام فمن جاء بثلث لم یغنین عنہ شیئا حتی بھن جمیعا الصلوۃ و الزکاۃ و صدام رمضان و حج البیت حوالہ دوم رواہ احمد فی مسندہ بسند حسن عن عمارۃ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں عربی عبارت امرنا باقام الصلوۃ و ایتاء الزکاۃ و من لم یزک فلا صلوۃ لہ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح ہمیں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں سبحان اللہ! جب زکوۃ نہ دینے والے کی نماز روزہ حج تک قبول نہیں تو اس نفلی خیرات نام کی کائنات سے کیا امید ہے بلکہ انہیں سے سبحانی کی روایت میں آیا ہے کہ فرماتے ہیں عربی عبارت من اقام الصلوۃ و لم یؤت الزکوٰۃ فلیس بمسلم ینفعہ جو نماز ادا کرے اور زکوۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں کہ اسے اس کا عمل کام آئے فتاوی رضویہ جلد ۸ صفحہ نمبر ۱۱۱/۱۲/۱۳ امام احمد رضا اکیڈمی مگر کار خیر کو چھوڑنا نہیں چاہیے کہ شیطان نوافل کی عدم مقبولیت کے دھوکے میں ڈال کر نیکیوں سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے دھوکے میں نہ آکر نفل صدقات و خیرات کرتا رہے کہ جب بھی فرائض مالیہ کی ادائیگی کریگا تو اب تک کے جتنے نفلی صدقات و خیرات سب فرائض مالیہ کے ادا کرتے ہی مقبول ہو جانے امید قوی ہے لہذا جس نے اب تک نفل صدقات کئے ہیں ان کی مقبولیت کے لئے جلد سے جلد فرائض مالیہ کی انجام دہی کرے کہ اس کے ساتھ نوافل خیرات بھی قبول ہوں جائیں
اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اے عزیز! شیطان لعین کہ انسان کا عدو مبین ہے بالکل ہلاک کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصد خیرات کا لگا رہ گیا ہے جس سے فقراء کو تو نفع ہے اسے بھی کاٹ دینے کے لئے یوں نہ فقرہ سمجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ ؛ چلو اسے بھی دور کرو؛ اور شیطان کی پوری بندگی بجا لاؤ؛ مگر اللہ عزوجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے ؛ وہ تیرے دل میں ڈالے گا کہ اس کے حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمن ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہا بالکل ہی متمرد و سرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنی تھی جس کے باعث عذاب سلطانی سے بھی نجات ملتی اور آج تک کے یہ وقف و مسجد و خیرات بھی سب قبول ہو جانے کی امید پڑتی؛ بھلا غور کرو وہ بات بہتر کے بگڑتے ہوئے کام پھر بن جائیں اکارت جاتی محنتی از سر نو ثمرہ لائیں یا معاذ اللہ یہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورت بندگی باقی ہے اسے بھی سلام کیجئے اور کھلے ہوئے سر کشوں؛ اشتہاری باغیوں میں نام لکھا لیجئے۔ وہ نیک تدبیر یہی ہے کہ زکوۃ نہ دینے سے توبہ کیجیئے آج تک جتنی زکوۃ گردن پر ہے فورا دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے ۔ مہربان مولا جس نے جان عطا کی آعضاء دے مال دیا کروڑوں نعمتیں بخشیں؛ اس کے حضور منہ اجالا ہونے کی صورت نظر آئے اورمژدہ ہو؛ بشارت ہو؛ نوید ہو؛ تہنیت ہو ایسا کرتے ہی اب تک جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے؛ مسجد بنائی ہے؛ ان سب کی بھی مقبولی کی امید ہو گی کہ جس جرم کے باعث یہ قابل قبول نہ تھے جب وہ زائل ہو گیا انہیں بھی باذن اللہ تعالی صرف قبول حاصل ہو گیا فتاوی رضویہ جلد نمبر ۸صفحہ نمبر ۱۱۴/۱۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی لہذا عبادات بدنیہ میں نوافل کی مقبولیت فرائض بدنیہ کی ادائیگی پر موقوف ہے اور عبادات مالیہ کے نوافل صدقات کی مقبولیت فرائض مالیہ کی مقبولیت پر واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہ جہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے