مرد عورت کے جنازے کو امام کہاں کھڑے ہو کر پڑھائے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مرد اور عورت کے نماز جنازہ جب پڑھاجائے تو امام کہاں پر کھڑا ہو؟ اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں آپ حضرات کی بہت بڑی مہربانی ہوگی المستفی ادریس احمد رضوی جموں رامبن حالا دنراٹھ کرنپٹن سے

       جواب

مرد ہو خواہ عورت کا جنازہ .میت سینے کے سامنے امام کا کھڑا ہونا مستحب ہے ، البتہ میت کے کسی بھی جزء کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے نمازِ جنازہ ہوجائے گی ہاں اگر پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ دو یا کئی جنازے ایک ساتھ ہو تو امام کو ان کے رکھنے میں اختیار ہے چاہے تو لمبائی میں ایک ہی لائن میں رکھے اور چاہے تو قبلہ کی سمت میں ایک کے بعد ایک کو رکھے
جیسا کہ انوار الفتاویٰ میں ہے نماز جنازہ میں امام کا میت کے سینے کے سامنے کھڑا ہونا مستحب ہے اس کے علاوہ میت کے کسی اور جزء کے سامنے کھڑا ہونا بھی جائز ہے
چناچہ علامہ شامی لکھتے ہیں ویقوم الامام ندباً بحذاء الصدر مطلقاً للرجال والمراة والا فمحاذاة جزء من المیت لا بد منھا " اھ ردالمحتار ج ۱ ص ۱۰۸ امام کا مرد اور عورت کے سینے کے سامنے کھڑا ہونا مستحب ہے ورنہ میت کے کسی بھی ایک جزء کے سامنے کھڑا ہونا ضروری ہے ہاں اگر متعدد جنازے ہوں تو امام کو ان کے رکھنے میں اختیار ہے چاہے تو لمبائی میں ایک ہی لائن میں رکھے اور چاہے تو قبلہ کی سمت میں ایک کے بعد ایک کو رکھے
جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے وھو فی کیفیة وضعھم بالخیار ان شاء وضعھم بالطول سطرا واحدا ویقف عند فضلھم وان شاء وضعھم واحد وراء واحد الی جھة القبلة فتاوی عالمگیری ج ۱ ص ۱٦۵ , فتح القدیر ج ۲ ص ۱۳۵ یعنی امام کو جنازہ رکھنے میں اختیار ہے ـ چاہے تو لمبائ میں ایک لائن میں رکھے اور ان میں سے افضل ہے کے پاس کھڑا ہو اور چاہے تو قبلہ کی سمت میں ایک کے بعد ایک کو رکھے انوار الفتاوی جلد اول صفحہ ۲۵۱ تا ۲۵۲

حوالہ
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ

۸ جمادی الاول ۱۴۴۳ہجری بروز یکشنبہ ۲۰۲۱عیسوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے