12.03.2021

نکاح میں بارات لے جانا جاںٔز ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماۓکرام کی بارگاہ میں ایک مسںٔلہ در پیش ہے وہ یہ کہ کیا شریعت اسلامی میں نکاح میں بارات لے جانا جاںٔز ہے کہ نہیں اگر نکاح سے بارات کا کوںٔی تعلق نہیں تو اس پر فتوی کیوں نہیں جاری کیا جاتا جواب عنایت فرما دیں عین نوازش ہوگی المستفی محمد رضا ازہری دیوریا یوپی الھند

       جواب

بارات لے جانا جاںٔز ہے لیکن اس شرط پر کہ دونوں فریقین رضا مند ہو اور کسی کو تکلیف نہ پہنچے تو اس شرط پر برات لے جا سکتے ہیں لیکن حتی الامکان جہاں تک ممکن ہو سادگی کے ساتھ نکاح کرے یہی سب سے انسب ہے فقط اور ہاں شادی کے لئے شریعت نے نہ تو کسی شادی ہال کو لازم قرار دیا ہے اور نہ ہی نمود و نمائش آتش بازی اور فضول خرچیوں کو شادی کا حصہ قرار دیا ہےبلکہ ان میں سے بعض صورتیں تو ناجائز وحرام ہیں۔ نکاح کا اعلانیہ طور پر مسجد میں اور جمعہ کے دن ہونا مستحب ہے (الدرالمختار،ج 4،ص75) اور ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اس نکاح کو برکت والا قرار دیا جس میں فریقین کا خرچ کم ہو چنانچہ نبیِّ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے فرمایا بڑی برکت والا وہ نکاح ہے جس میں بوجھ کم ہو (مسند احمد، ج9،ص365 حدیث:24583)
اور حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنَّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے مہر بھی معمولی ہو جہیز بھاری نہ ہو کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو، ﷲ (عزوجل) کے تَوَکُّل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ایسی شادی خانہ آبادی ہے آج ہم حرام رسموں بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خانہا (یعنی بہت سارے گھروں کے لئے باعثِ) بربادی بنالیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی اس حدیثِ پاک پر عمل کی توفیق دے (مراٰۃ المناجیح،ج5،ص11) نوٹ معلوم ہوا کہ لڑکی اور لڑکے والے کی رضامندی سے بارات لے جانا جائز ہے جبکہ کوئی خلاف شرع کام نہ ہو پھر سائل موصوف کا یہ کہنا کہ فتوی کیوں نہیں جاری کرتے یہ موصوف کی حماقت ہے فتوی جب جاری ہوتاہے جب کہ کوئی کام خلاف شرع ہو آپ کے کہنے سے فتوی نہیں جاری ہوگا اور علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور طرز سوال سے‌ ظاہر ہے کہ سائل مفتیان کرام پر طنز کر رہا ہے تو سائل موصوف کو معلوم ہو کہ علماء تمہارے غلام نہیں ہیں بلکہ تمہارے سر کے تاج ہیں ان کی تعظیم و توقیر کیا کرو ورنہ اپنی دنیا و آخرت دونوں تباہ کر لو گے علماء کا کام ہے مسائل شرعیہ بتانا آپ جب پوچھیں گے علماء بتائیں گے یا علماء کہیں ناجائز رسوم کو دیکھیں گے منع کریں گے سوال کی یہی نوعیت ہے کہ عوام غلطی کرے اور الزام علماء پر اللہ تعالیٰ ایسوں کو ہدایت دے اور مسائل شرعیہ سمجھنے کی توفیق بخشے اور علمائے کرام کی تعظیم و توقیر کا جزبہ عطا کرے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only