نماز میں صرف تشہد پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسلے کے بارے میں اگر کوئی شخص نماز میں صرف تشہد پڑھے تو کیا نماز ہوگی با حوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفی محمد شہنواز رضا

       جواب

نماز ہوجاۓگی مگر خلاف سنت ہوگی اور سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ درودابراہیمی کا پڑھنا سنت ہے اور ترک سنت سے نماز ہوجاتی ہے لیکن قصدا نہیں چھوڑناچاہیۓ جب کہ کوٸی اور وجہ نہ ہو
فتاویٰ ھندیہ میں ہے وَلَا يَجِبُ (سجدة السہو)بِتَرْكِ التَّعَوُّذِ وَالْبَسْمَلَةِ فِي الْأُولَى وَالثَّنَاءِ وَتَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالَاتِ المجلدالاول ، باب سجودالسہو ، (ص ١٣٩(بیروت لبنان ہاں ترک سنت پر اگر نماز کااعادہ کرلے تو مستحب ہے مگر ضروری نہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے