ایک جگہ جماعت کرنے کے بعد دوسری جگہ جماعت کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علما،کرام،کی با ر گا ہ میں ایک سوال ہے وہ یہ کہ ایک جگہ با جما عت نماز ادا کرنے کے بعد پھر اگر با جما عت نماز کر تے ہیں تو اس کے لئے جگہ بد لتے ہیں ایسا کر نا صحیح ہے اور جگہ بد لنے کا ثبوت کیا ہے المستفی محمد فرقان فیضی بہرائچ

       جواب

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسجد محلہ میں جس کے لئے امام مقرر ہو امام محلہ نے اذان و اقامت کے ساتھ بطریق مسنون جماعت پڑھ لی ہو تو اذان و اقامت کے ساتھ ہئیات اولی پر دوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کر ہو اور اگر پہلی جماعت بغیر اذان ہوئی یا آہستہ اذان ہوئی یا غیروں نے جماعت قائم کی تو پھر جماعت قائم کی جائے اور یہ جماعت جماعت ثانیہ نہ ہوگی ہئیات بدلنے کے لئے امام کا محراب سے داہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق در جوق آتے اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نمازی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت ثانیہ قائم کی جائے کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان و اقامت سے جماعت کرے یوہیں اسٹیشن وسرائے کی مسجدیں ( بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر 126) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ مـحـمّـد الطاف حسین قادری رضوی

خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے