حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کتنی نماز تھی اور کیسے اد کرتے تھے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  سوال عرض یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں کتنے وقت کی نماز تھی اور اگر تھی تو کیسے پڑھا کرتے تھے ۔مدلل جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں کرم ہوگا المستفی محمد عدنان اطہر۔گشنگنج بہار۔

       جواب

نماز ہر آسمانی دین میں تھی یہ اور بات ہے طریقہ جداگانہ تھا چنانچہ سیدنا حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں دو رکعتیں صبح اور دو رکعتیں شام کے وقت فرض تھیں
جیسا کہ امام النحوحضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں لا خیر فی دین لا صلوٰۃ فیہ اس دین میں بھلائی نہیں جس میں نماز نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ ہر آسمانی دین میں نماز تھی اسلامی تاریخ دیکھنے سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ بنی اسرائیل پہ دو رکعتیں صبح اور دو رکعتیں شام کے وقت فرض ہوئی تھیں باقی امتوں کا حال خدا جانے (نظام شریعت ص ٩٢) اب رہا یہ کہ وہ نماز کیسے پڑھا کرتے تھے تو پہلے ہی تحریر کیا کہ نماز پڑھنے طریقہ جداگانہ تھا رکوع اور سجود کے ساتھ نماز مسلمانوں ہی کا طریقہ ہے کیونکہ یہودیوں کی نمازوں میں رکوع اور سجود نہ ہوتا تھا انکی نمازوں میں صرف قیام ہی تھا بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئ سالوں تک بغیر رکوع وسجود کے نمازیں ادا فرمائی ہیں پھر جب سورہ حج کی آیت کریمہ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا نازل ہوئی تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نمازوں میں رکوع وسجود کا اضافہ فرمایا
جیساکہ مفسر شہیر ملا احمد جیون علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا ہے حاصل خطاب یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مسلمانوں کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے وہ اس طرح کہ مسلمانوں کی سی نماز ادا کرو یعنی کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرو اور کہا کہ تمہاری زکوٰۃ اور نماز میں تمہارا رکوع بھی مسلمانوں کی طرح ہونا چاہئے کیونکہ یہودیوں کی نماز رکوع اور سجود سے خالی تھی صرف قیام پر مبنی تھی ہمارے آقا و مولی جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ہی نماز کئی سال (قبل احکام رکوع وسجود) ادا فرماتے رہے پھر اللہ رب العزت نے نماز میں رکوع وسجود سورہ الحج کی اس آیت سے زیادہ کئے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا اے مومنو !رکوع وسجود بجا لاؤ (تفسیرات احمدیہ مترجم ص ٣١'٣٢) معلوم ہوا سیدنا حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم بنی اسرائیل پر دو وقتوں میں چار رکعتیں نماز فرض تھیں اور انکی نمازیں صرف قیام پر مبنی تھیں رکوع وسجود انکی نمازوں میں نہ ہوتا تھا کہ سورہ الحج کی مذکورہ آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد نماز میں رکوع وسجود کا اضافہ ہوا واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقام کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ