فجر کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم بھول گیا تو اذان کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  بعدہٗ عرض یہ ہیکہ فجر کی اذان میں الصلوٰة خیر من النوم کو بھول گیا اور پوری اذان کرلی پھر یاد آنے پر الصلوٰة خیر من النوم پکارا گیا اور اذان پوری کی گٸی۔ اس صورت میں کیا اذان پھر سے دہراٸی جاٸیگی یا اسی پر اکتفا کر لیا جاٸیگا یہ ہمیشہ کا معمول ہے۔ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں المستفی ابو حماد رضا رضوی الہند ممبر آف گروپ 1️⃣یارسول اللہﷺ

       جواب

درحقیقت اذان پہلی ہی بار میں مکمل ہوگٸ تھی کیوں کہ اذان کے الفاظ درحقیقت ١٥ پندرہ ہے اور الصلوة خیرمن النوم یہ فجر کی اذان حی علی الفلاح کے بعد میں زیادہ کرنے کو کہاگیا کہ مستحب ہے ۔۔۔ لہذا اس کے ترک پر اذان میں کوٸی خرابی نہیں آتی! البتہ قصدا ترک کرناقطعا مناسب نہیں
جیسا مختصرالقدوری میں صفة الاذان أن یقول الله أكبرالله أكبر الی آخرہ ولاترجیع فیہ! و یزید فی الفجر بعد الفلاح الصلاة خیرمن النوم مرتین باب الاذان ، ص٢٧ {مجلس برکات}
اور فتاویٰ ھندیہ میں ہے الْأَذَانُ خَمْسَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَآخِرُهُ عِنْدَنَا لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ. وَهِيَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ، أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ هَكَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ. وَالْإِقَامَةُ سَبْعَ عَشَرَةَ كَلِمَةً خَمْسَ عَشَرَةَ مِنْهَا كَلِمَاتُ الْأَذَانِ وَكَلِمَتَانِ قَوْلُهُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ وَيَزِيدُ بَعْدَ فَلَاحِ أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ مَرَّتَيْنِ، كَذَا فِي الْكَافِي المجلدالاوّل ، کتاب الصلوٰة ، باب الاذان ، ص ٦٢ {بیروت لبنان} اذان کا لوٹانا ضروری نہ تھا ہاں اگر مذکورہ جملے کے علاوہ اور کوٸی جملہ ترک ہوجاۓ یاآگے پیچھے ہوجاۓ اور یاد آجاۓ تو وہیں سے درست کرلے سرے سے پڑھنےکی ضرورت نہیں
فتاویٰ ھندیہ میں ہے وَإِذَا قَدَّمَ فِي أَذَانِهِ أَوْ فِي إقَامَتِهِ بَعْضَ الْكَلِمَاتِ عَلَى بَعْضٍ نَحْوُ أَنْ يَقُولَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَبْلَ قَوْلِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ فَالْأَفْضَلُ فِي هَذَا أَنَّ مَا سَبَقَ عَلَى أَوَانِهِ لَا يُعْتَدُّ بِهِ حَتَّى يُعِيدَهُ فِي أَوَانِهِ وَمَوْضِعِهِ وَإِنْ مَضَى عَلَى ذَلِكَ جَازَتْ صَلَاتُهُ كَذَا فِي الْمُحِيطِ {المرجع السابق} واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول و امام جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے